کسان کمیشن کے صدر نشین کے بیان پر ہریش راؤ کی برہمی

TOP_13-16

بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے کسان کمیشن کے صدر نشین کودنڈا ریڈی کے حالیہ بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ای آر سی کے سامنے کودنڈا ریڈی کی جانب سے دیئے گئے اس بیان پر کہ کسانوں کو 24 گھنٹے برقی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف 3 گھنٹے برقی کافی ہے۔ ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس قائد کے اس بیان سے ریونت ریڈی حکومت کا کسان مخالف چہرہ پوری طرح سے بے نقاب ہوگیا ہے۔ اب چیف منسٹر ریونت ریڈی کے امریکی دورے کے دوران کہی گئی باتوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے باقاعدہ سازشیں کی جارہی ہیں۔ ہریش راؤ نے کسان کمیشن کے چیرمین پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ کھیت کیا ہوتا ہے، بور بند ہونے سے فصل کیسے سوکھ جاتی ہے اور کسان دن رات کس طرح خون پسینہ بہاکر محنت کرتا ہے وہی لوگ آج تین گھنٹے برقی کو کافی بتانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کے سی آر کی قیادت میں بی آر ایس حکومت نے کسانوں کو 24 گھنٹے معیاری اور مفت برقی فراہم کرکے تلنگانہ کی زراعت کو پورے ملک کیلئے بہترین ماڈل بنایا تھا لیکن اب موجودہ کانگریس حکومت کسانوں کو دوبارہ اندھیروں میں ڈھکیلنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہریش راؤ نے کانگریس کے اب تک کے دور اقتدار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس نے کسانوں کے قرض معافی کو روک دیا۔ رعیتو بندھو اسکیم کو معطل کیا اور فصلوں کے بونس کے نام پر جھوٹے وعدے کئے۔ اس کے علاوہ حکومت برقت کھاد کی فراہمی میں ناکام رہی اور منڈیوں میں فصلیں نہ خریدکر کسانوں کو شدید مالی و ذہنی بحران کا شکار بنارہی ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ کے سی آر کی جانب سے کسانوں کے حق میں نافذ کی گئی 24 گھنٹے مفت برقی کی اسکیم کو منظم طریقہ سے ختم کرنے کیلئے ڈسکام کے پیچھے کانگریس کی ایک بڑی سازش چھپی ہوئی ہے۔ بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر نے خبردار کیا کہ تلنگانہ کا ہر ایک کسان ریونت حکومت کی ان سازشوں کو باریک بینی سے دیکھ رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ریاست کے کسان اس کسان مخالف کانگریس حکومت کو عبرت ناک سبق سکھائیں گے۔