چندرابابو نائیڈو سے ملی بھگت کے ذریعہ تلنگانہ سے دھوکہ دہی : ہریش راؤ

بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر سابق وزیر ہریش راؤ نے پالمور ۔ رنگاریڈی لفٹ اریگیشن پراجکٹ کے دورہ کے دوران چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے بی آر ایس حکومت اور سابق چیف منسٹر کے سی آر پر کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ریونت ریڈی پر آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو سے ملی بھگت کرتے ہوئے تلنگانہ کے ساتھ بالخصوص پانی کے معاملے میں دھوکہ دہی کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہاکہ چیف منسٹر بی آر ایس کی مجوزہ پدیاترا سے خوفزدہ ہوکر بے بنیاد الزامات لگارہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ آبپاشی منصوبوں پر تنقید کرنے کا ریونت ریڈی کو اخلاق حق بھی نہیں ہے۔ بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر نے کہاکہ کانگریس حکومت کے ڈھائی سال مکمل ہوچکے ہیں مگر متحدہ ضلع محبوب نگر کے لئے کوئی قابل ذکر کام بھی نہیں کیا گیا ہے۔ ہریش راؤ نے الزام عائد کیاکہ چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر آندھراپردیش چندرابابو نائیڈو کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے تلنگانہ کے آبی مفادات کو نقصان پہونچارہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیاکہ اس ملی بھگت کے نتیجہ میں رواں سال دریائے کرشنا کے پانی میں آندھراپردیش نے 75 فیصد حصہ استعمال کیا جبکہ تلنگانہ صرف 25 فیصد پانی تک محدود ہوکر رہ گیا۔ ہریش راؤ نے اس سنگین ناکامی پر چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی کو ریاست کے عوام سے فوری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ سابق وزیر نے یاد دلایا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں متحدہ ضلع محبوب نگر کے مختلف علاقوں کے 10 لاکھ ایکر اراضی کے لئے پانی فراہم کیا گیا تھا۔ موجودہ کانگریس حکومت نے کسانوں کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔
