تعلیم اور صحت کے شعبہ جات کی بہتری سے ملک کی ترقی ممکن: ریونت ریڈی

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ملک کی ترقی کیلئے تعلیم اور صحت بنیادی ستون کی طرح ہیں۔ نئی دہلی میں نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کے 11 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ طبقاتی مردم شماری کے بعد تلنگانہ میں ترقیاتی ماڈل تیار کیا گیا ہے جس کے تحت تعلیمی انقلاب ، ہنرمندی کی ترقی اور عالمی معیار کی انفراسٹرکچر سہولتوں پر توجہ دی جارہی ہے۔ راشٹرپتی بھون میں منعقدہ اجلاس کی صدارت وزیراعظم نریندر مودی نے کی ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ملک کی ترقی دراصل عوام کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت ہی عوام کو معاشی طاقت اور قوم کے معمار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے 2024 میں سماجی ، معاشی ، تعلیمی ، روزگار ، سیاسی اور ذاتی سروے کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف طبقات کی حقیقی صورتحال منظر عام پر آئی۔ ریاست میں 3.55 کروڑ افراد اور 242 طبقات کے اعداد و شمار جمع کئے گئے۔ سروے سے پتہ چلا کہ دولت اور زمین کے مقابلہ میں تعلیم ، سماجی پسماندگی پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے اسی لئے ہر شہری کو معیاری تعلیم فراہم کرنا وکست بھارت 2047 نشانہ کے حصول کا موثر ذریعہ ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ محکمہ تعلیم کا قلمدان انہوں نے اپنے پاس رکھا ہے کیونکہ تعلیم کی طاقت پر مکمل یقین ہے۔ گزشتہ 75 برسوں میں مفت تعلیم کی فراہمی پر توجہ دی گئی لیکن معیاری تعلیم فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس مقصد کے تحت تلنگانہ حکومت سرکاری اسکولوں میں ضروری سہولتیں فراہم کرتے ہوئے تعلیمی انقلاب برپا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں انگلش میڈیم ، ڈیجیٹل کلاس رومس ، مفت ناشتہ ، دوپہر کا کھانا ، شام کے اسنیکس ، اسکول بسیں، کھیل کود کی سہولت اور معیاری تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ نرسری سے انٹرمیڈیٹ تک ایک ہی کیمپس میں تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کے ینگ انڈیا اسکولس میں تمام طبقات کے طلبہ ایک ہی چھت کے نیچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہر اسمبلی حلقہ میں ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے ذریعہ سماجی مساوات کو فروغ حاصل ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر ملک کی کسی بھی ریاست کے چیف منسٹر یا سرکاری عہدیدار ینگ انڈیا اسکولس کا معائنہ کرنا چاہیں تو حکومت انتظام کرنے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیفشل انٹلیجنس کے دور میں نوجوانوں کو نئی ٹکنالوجی سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔ تلنگانہ کے تمام آئی ٹی آئیز کو جدید ٹکنالوجی ٹریننگ سنٹر میں تبدیل کرنے کیلئے ٹاٹا گروپ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ کمپنی 2100 کروڑ کی سرمایہ کاری کرے گی۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ رائیزنگ ویژن 2047 کی تفصیلات سے اجلاس کو واقف کرایا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ملک کی معاشی ترقی کیلئے دہلی ، ممبئی ، کولکتہ ، چینائی ، حیدرآباد اور بنگلور کی ترقی کیلئے وزیراعظم کے دفتر کی نگرانی میں خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے۔ انہوں نے مذکورہ شہروں کی بنیادی ترقی کیلئے 6 لاکھ کروڑ کے خصوصی فنڈس کی تجویز پیش کی اور کہا کہ ہر شہر کو ایک لاکھ کروڑ فراہم کئے جائیں۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کی ترقی میں مرکزی حکومت سے تعاون کی درخواست کی اور ریجنل رنگ روڈ ، میٹرو فیس II ، موسیٰ ندی ترقیاتی منصوبہ ، بھارت فیوچر سٹی ، پالمور رنگا ریڈی پراجکٹ اور حیدرآباد میں آئی آئی ایم کے قیام کیلئے مرکز سے درخواست کی۔
