محمد علی شبیر کی خلیل سیٹھ کے ہمراہ ملکارجن کھرگے سے ملاقات

Page2-5 (1)

کاماریڈی کانگریس قائدین کے درمیان جاری تنازعہ کانگریس ہائی کمان تک پہنچ چکا ہے اور سابق ریاستی وزیر و مشیر حکومت برائے ایس سی ‘ ایس ٹی واقلیتی طبقات محمد علی شبیر نے بنگلورو میںجناب خلیل سیٹھ کے ہمراہ صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی مسٹر ملکارجن کھرگے اور ان کے داماد سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ کانگریس کمیٹی میں جاری سرگرمیوں کے متعلق واقف کروایا ۔ ذرائع کے مطابق صدر اے آئی سی سی جناب ملکارجن کھرگے نے محمد علی شبیر کی جانب سے کاماریڈی کانگریس قائدین کے درمیان جاری تنازعہ میں مداخلت سے صریح انکار کردیا اور کہا کہ معاملہ کو ریاستی سطح پر ہی سلجھانے کے اقدامات کئے جائیں۔ واضح رہے کہ انچارج حلقہ اسمبلی کاماریڈی مسٹر چندر شیکھر نے محمد علی شبیر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروانے کے علاوہ کانگریس تادیبی کمیٹی سے شکایت کی جس پر صدرنشین تادیبی کمیٹی رکن پارلیمنٹ مسٹر ملوروی اور جناب ظفر جاوید نے محمد علی شبیر کو نوٹس روانہ کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق محمد علی شبیر نے تادیبی کمیٹی کی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے ’وائرل‘ ریکارڈنگ کے متعلق دعویٰ کیا کہ یہ ان کے خلاف سازش ہے اور انہیں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے ’وائرل ‘ کال ریکارڈنگ میں موجود آواز ان کی نہ ہونے کا دعویٰ کیا اور مطالبہ کیا کہ اس وائرل آڈیوکال ریکارڈنگ کی فارنسک جانچ کروائی جائے۔تفصیلات کے مطابق 2023 میں حلقہ اسمبلی کاماریڈی سے مسٹر اے ریونت ریڈی کے مقابلہ اور حلقہ اسمبلی کاماریڈی سے محمد علی شبیر کے مقابلہ کے بعد محمد علی شبیر کو حلقہ اسمبلی کاماریڈی کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا گیا تھا اور انہیں نظام آباد کی مکمل ذمہ داری دی گئی تھی لیکن حلقہ اسمبلی نظام آباد میں انتخابی شکست کے بعد حلقہ اسمبلی نظام آباد سے تعلق رکھنے والے صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کو جب رکن قانون ساز کونسل بنایا گیا تو انہوں نے اپنے حلقہ اسمبلی کی مکمل باگ دوڑ سنبھال لی تاہم اس وقت تک چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بھائی کونڈل ریڈی جو کہ حلقہ اسمبلی کاماریڈی کے امور کی دیکھ بحال کررہے تھے نے اپنی نگرانی میں حلقہ اسمبلی کاماریڈی میں پارٹی کو مستحکم کرنے کے اقدامات کئے ۔بتایاجاتا ہے کہ حلقہ اسمبلی کاماریڈی میں چندر شیکھر کو انچارج کی ذمہ داری تفویض کئے جانے کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ پر گفتگو کے دوران محمد علی شبیر نے صدر تلنگانہ کانگریس کمیٹی مسٹر مہیش کمار گوڑ پر انتہائی ’نازیبا‘ الزامات عائد کرتے ہوئے پارٹی میں دولت کی اساس پر عہدوں کی فروخت کا الزام عائد کیا ۔ اس کال ریکارڈنگ کے وائرل ہونے کے بعد سابق صدرنشین محترمہ اندو پریہ نے محمد علی شبیر کے الزامات کو انتہائی شرمناک اور بدبختانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مخاصمت اور اختلافات بھی دائرہ میں ہونے چاہئے ۔ ذرائع کے مطابق کانگریس تادیبی کمیٹی کی جانب سے نوٹس کی اجرائی کے ساتھ ہی محمد علی شبیر اپنی صفائی دینے کے لئے صدر اے آئی سی سی سے قریبی روابط رکھنے والے جناب خلیل سیٹھ کے ہمراہ بنگلورو روانہ ہوئے جہاں انہوں نے مسٹر ملکارجن کھرگے سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے موقف کوپیش کرنے کی کوشش کی ۔بتایا جاتاہے کہ کانگریس پارٹی ہائی کمان نے صدر پردیش کانگریس کے خلاف کئے گئے ’نازیبا‘ ریمارکس کے علاوہ محترمہ میناکشی نٹراجن کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کروانے کے معاملات کا سخت نوٹ لیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ دونوں ہی معاملات میں پارٹی اعلیٰ کمان کی خصوصی کمیٹی جائزہ لینا شروع کرچکی ہے۔