اواخر جاریہ سال اور آئندہ سال تلنگانہ قانون ساز کونسل کی پانچ نشستیں مخلوعہ ہوں گی

p21

40 رکنی تلنگانہ قانون سازکونسل میں جاریہ سال کے اواخراور آئندہ سال کے اوائل کے دوران 5 اراکین قانون سازکونسل کی نشستیں خالی ہوں گی اور ان کے لئے 50 سے زائد دعویدار موجود ہیں۔نومبر 2026 میں گورنر کوٹہ کے تحت موجود 3اراکین قانون ساز کونسل کی نشستیں خالی ہونے جا رہی ہیں اور ان نشستوں پر نامزد اراکین کے لئے متعدد طبقات اپنے امیدواروں کے نام ابھی سے پیش کرنے لگے ہیں جبکہ ’’مسلم ‘‘ طبقہ کی جانب سے جو دعوے کر رہے ہیں وہ دراصل عوامی حمایت یا تائید کے بجائے ’’دولت‘‘ کی بنیاد پر عہدہ نامزد رکن قانون ساز کونسل بننے کی کوشش میں مصروف ہیں حالانکہ برسراقتدار سیاسی جماعت میں جن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں تاحال کسی مسلم چہرے کا نام زیر گشت نہیں ہیں اس کے باوجود بعض افراد خوش فہمی کا شکار ہیں۔تلنگانہ قانون سازکونسل میں موجود گورنر کوٹہ کے تحت موجود 6 اراکین قانون سازکونسل میں 3اراکین مسٹر بی دیانند ‘ مسٹر گوریٹی وینکنا اور مسٹر بسواراج ساریا کی معیاد جاریہ سال نومبر کے دوران مکمل ہونے جار ہی ہے اور ان کی معیاد کی تکمیل سے قبل خالی ہونے والی نشستوں پر نامزدگیوں کے عمل کو مکمل کیا جاسکتا ہے۔قوانین کے مطابق کسی بھی نامزد رکن کی نشست کے مخلوعہ ہونے سے قبل بھی نامزدگیوں کے عمل کو مکمل کرتے ہوئے اس پر موجود رکن قانون ساز کونسل کی معیاد کی تکمیل کے بعد عمل آوری کی جاسکتی ہے ۔ گورنر کوٹہ کے تحت موجود مذکورہ 3اراکین قانون سازکونسل کے علاوہ پروفیسر کودنڈا رام ریڈی ‘ محمد اظہر الدین اور مسٹر مدھوسدن چاری موجود ہیں جن کی معیاد مکمل ہونے میں ابھی وقت ہے۔گورنر کوٹہ کے تین اراکین قانون ساز کونسل کی نشستوں کے مخلوعہ ہونے کے علاوہ آئندہ سال مارچ 2027 میں گریجویٹ حلقہ جات کونسل سے منتخب ہونے والے 2اراکین قانون ساز کونسل تین مار ملنا کے علاوہ ایس وانی دیوی کی معیاد مکمل ہونے جا رہی ہے۔ ان دو نشستوں کے لئے حلقہ جات قانون ساز کونسل حیدرآباد۔رنگاریڈی ۔ محبوب نگر کے علاوہ کھمم۔ورنگل ۔نلگنڈہ کے گریجویٹس رائے دہی میں حصہ لیتے ہوئے ان نشستوں پر اراکین قانون سازکونسل کے انتخاب کو یقینی بنائیں گے۔فی الحال حیدرآباد۔ رنگاریڈی ۔محبوب نگر سے بی آر ایس رکن قانون ساز کونسل مسز ایس وانی دیوی نمائندگی کررہی ہیں جبکہ کھمم۔ ورنگل ۔نلگنڈہ سے کانگریس کے معطل رکن قانون ساز کونسل تین مار ملنا نمائندگی کر رہے ہیں۔ گورنر کوٹہ کے 3 اور گریجویٹ کوٹہ کے2 اراکین قانون ساز کونسل کی نشستوں کے خالی ہونے سے جملہ 5نشستوں پر نئے اراکین قانون ساز کونسل کے انتخاب و نامزدگی کی راہ ہموار ہوگی ۔گورنر کوٹہ کے نامز اراکین کے لئے ریاستی کابینہ جن ناموں کی سفارش کرتے ہوئے گورنر کوروانہ کرے گی ان ناموں کو منظوری دی جائے گی اسی لئے ان نامزدگیوں میں مسلمانوں کو نمائندگی فراہم کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی تیار کی جانی چاہئے علاوہ ازیں دونوں گریجویٹ نشستوں پر بھی بہتر نمائندگی کے لئے ابھی سے کوششوں کا آغاز کیاجانا چاہئے تاکہ ایوان میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کیا جاسکے ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں فی الحال 3 مسلم اراکین قانون ساز کونسل ہیں جن میں ایک ریاستی وزیر محمد اظہر الدین کے علاوہ ریاض الحسن آفندی اور مرزارحمت بیگ شامل ہیں اگر رحمت بیگ مستعفی ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں 2 مسلم اراکین قانون ساز کونسل ہی رہ جائیں گے۔یاد رہے کہ محترمہ کے کویتا کے مستعفی ہونے کے بعد سے نظام آباد ادارہ جات مقامی کے تحت موجود رکن قانون ساز کونسل کی نشست مخلوعہ ہے۔