تلنگانہ کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کبھی بی جے پی سے اتحاد نہیں کرے گی

14-copy-2

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ سابق وزیر کے ٹی آر نے واضح کیا ہے کہ 2028 کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کی بی جے پی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد نہیں ہوگا ۔ وہ ہریانہ کے سونی پت میں واقع جندال گلوبل یونیورسٹی میں ’ گورننس میں اختراع ایک اسٹارٹ اپ اسٹیٹ کی کہانی ‘ کے عنوان پر منعقدہ خصوصی لکچر دینے کے بعد طلبہ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ 2028 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے امکان پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے انکار کیا اور کہا کہ بی آر ایس کا بی جے پی سے کوئی سیاسی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ حلقوں کی حد بندی پر انہوں نے کہا کہ فی الوقت قومی سطح پر جنوبی ہند کی ریاستوں کی لوک سبھا میں نمائندگی 24 فیصد ہے ۔ اگر لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو بی آر ایس کو حد بندی بل کی حمایت کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ ٹکنالوجی کی تبدیلیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہر بڑی تکنیکی پیشرفت کے وقت تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور یہی معاملہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ بھی ہے ۔ ہمیں نئی ٹکنالوجی اور AI کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے ۔ تلنگانہ کی ترقی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ گوداوری کے پانی کو ریاست کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں تک پہونچانے کا تاریخی چیلنج کالیشورم پراجکٹ کی صورت میں ایک بہترین انجینئرنگ حل بنا ہے ۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2014-15 کے دوران تلنگانہ میں دھان کی پیداوار محض 44.4 لاکھ ٹن تھی جو بی آر ایس کے اقدامات اور آبپاشی سہولیات کی بدولت 2023-24 میں بڑھ کر 168.8 لاکھ ٹن تک پہونچ گئی ۔