عوامی حکومت کے تحت سرکاری وسائل ترقی و فلاح و بہبود پر خرچ کئے جائیں گے

17pazr3

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس کی عوامی حکومت تلنگانہ میں عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق کام کرتے ہوئے نہ صرف مسائل کو حل کر رہی ہے بلکہ حکومت کے وسائل کے ذریعہ عوامی حقوق کا تحفظ کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر پبلک گارڈن نامپلی میں منعقدہ یوم عوامی حکمرانی سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف منسٹر نے قومی پرچم لہرایا اور پریڈ کی سلامی لی۔ حیدرآباد اسٹیٹ کے انڈین یونین میں انضمام کو حکومت نے یوم عوامی حکمرانی کے طور پر ریاست گیر سطح پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں وزراء نے قومی پرچم لہرائے۔ چیف منسٹر نے حیدرآباد اسٹیٹ کے انضمام کی جدوجہد میں حصہ لینے والے مجاہدین آزادی کو خراج پیش کیا اور گزشتہ ایک ہزار دن میں حکومت کی کارکردگی اور کارناموں کی تفصیلات پیش کی۔ انہوں نے عوام کو عوامی حکمرانی دن کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ تلنگانہ وہ سرزمین ہے جہاں ناانصافیوں ، استحصال ، جاگیردارانہ نظام کے خلاف عوامی احتجاج کی طویل تاریخ ہے۔ ڈکٹیٹرشپ پر یقین رکھنے والے حکمرانوں کے خلاف اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر جدوجہد کرنے والے مجاہدین کی تلنگانہ جائے پیدائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست 1947 کو ہندوستان آزاد ہوا لیکن اس وقت حیدرآباد ریاست نظام کی حکمرانی میں برقرار رہی۔ تلنگانہ کے علاوہ مہاراشٹرا اور کرناٹک کے بعض علاقے حیدرآباد اسٹیٹ کا حصہ تھے۔ نظام دور حکومت میں حیدرآباد نے صنعتی ، تعلیمی ، زرعی اور طبی شعبوں میں ترقی کے ذریعہ عالمی سطح پر شناخت حاصل کی۔ دیہی تلنگانہ میں جاگیردارانہ استحصال اور ظلم کے نتیجہ میں عوام میں بے چینی پیدا کردی تھی۔ انڈین یونین میں انضمام کیلئے عوام نے ہر طرح سے جدوجہد کی ۔ آندھرا مہا سبھا اور حیدرآباد اسٹیٹ کانگریس کی قیادت میں تحریکات چلائی گئیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کی قیادت میں آپریشن پولو کے تحت فوجی کارروائی کے ذریعہ حیدرآباد اسٹیٹ کو انڈین یونین میں شامل کیا گیا۔ انضمام کے بعد شاہی حکمرانی کی جگہ جمہوری حکمرانی قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر کو عوامی حکمرانی کا مطلب سرکاری وسائل کو عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے استعمال کرنا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مہا لکشمی اسکیم کے تحت آر ٹی سی میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت کے نتیجہ میں خواتین کو 12385 کروڑ کی بچت ہوئی ہے۔ خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کیلئے ایک کروڑ خواتین کو کروڑ پتی بنانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کلیان لکشمی اور شادی مبارک کے تحت ایک لاکھ 68 ہزار خواتین کو 4709 کروڑ امداد کی فراہمی کا حوالہ دیا۔ عوامی نظام تقسیم کے ذریعہ 3.42 کروڑ افراد کو باریک چاول مفت سربراہ کیا جارہا ہے۔ حکومت نے 15 لاکھ سے زائد نئے اسمارٹ راشن کارڈس جاری کئے ہیں۔ ریاست میں 43 لاکھ افراد کو پنشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اندراماں ہاؤزنگ کے تحت پہلے مرحلہ میں 22 ہزار کروڑ سے چار لاکھ 50 ہزار مکانات کی منظوری کا ذکر کیا اور کہا کہ ہر مکان کیلئے 5 لاکھ روپئے امداد دی جارہی ہے ۔ دوسرے مرحلہ میں 2.50 لاکھ مکانات منظور کئے گئے۔ حیدرآباد کے حدود میں ایک لاکھ اندراماں مکانات کی تعمیر کیلئے ٹاورس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تلنگانہ میں ایس سی زمرہ بندی کی گئی اور طبقاتی سروے کا اہتمام کرتے ہوئے بی سی طبقات کو تعلیم اور روزگار میں 42 فیصد تحفظات کا بل اسمبلی میں منظور کیا گیا۔ ہر اسمبلی حلقہ میں انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو ناشتہ اور دودھ فراہم کرنے کیلئے 927 کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ مڈڈے میل اسکیم کو انٹرمیڈیٹ تک توسیع دی گئی۔ 11 لاکھ طلبہ کو اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم بینک کھاتوں میں جمع کی جارہی ہے۔ کانگریس حکومت نے 72 ہزار سے زائد سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے ۔ حیدرآباد کے عوام کو آلودگی سے بچانے اور صاف پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ شروع کیا گیا۔ تلنگانہ رائزنگ 2047 کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ 30,000 ایکر اراضی پر فیوچر سٹی تعمیر کی جارہی ہے۔ تلنگانہ گلوبل سمٹ 2026 کے موقع پر فیوچر سٹی کا ماسٹر پلان جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے چار کروڑ تلنگانہ عوام کی شراکت کے ساتھ ریاست کو دنیا کیلئے ایک مثالی اور ترقی یافتہ تلنگانہ میں تبدیل کرنے کا عہد کیا۔1/k

نوٹ برائے ووٹ مقدمہ کے خلاف ریونت ریڈی سپریم کورٹ سے رجوع
حیدرآباد۔17۔ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے 2015 کے نوٹ برائے ووٹ ایف آئی آر کو کالعدم کرنے کی درخواست کی ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی زیر قیادت بنچ پر ریونت ریڈی کے وکیل سدھارت لوتھرا نے کہا کہ انسداد رشوت ستانی قانون میں ترمیم سے قبل رشوت کی پیشکش کو جرم تصور نہیں کیا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 2018 میں اس قانون میں کئی ترمیمات کی گئیں اور عوامی نمائندہ کو رشوت کی پیشکش کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ 2015 میں جس قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ، اس میں بعد میں ترمیم کی گئی۔ واضح رہے کہ ایم ایل سی الیکشن میں ووٹ دینے کیلئے نامزد رکن اسٹیفنسن کو مبینہ طور پر بھاری رقم کی پیشکش کی گئی تھی۔ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے ریونت ریڈی اور دوسروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ ریونت ریڈی کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کی جانب سے بھی تحریری طور پر حلفنامہ داخل کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیر دوران ہے۔ ریونت ریڈی کی درخواست پر عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔