پراپرٹی ٹیکس کا نیا نظام ، ہر سال ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ

تلنگانہ حکومت نے کور اربن ریجن کی حدود میں کیپٹل ویلیو ( سرمایہ کی قیمت ) کی بنیاد پر پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس نئے ٹیکس نظام کو قانونی تحفظ دینے کے لیے اسے ’ کور اربن ریجن بل 2026 ‘ میں شال کردیا گیا ہے ۔ جس سے میونسپل کارپوریشنس کی مجموعی آمدنی میں زبردست اضافہ ہو کر تقریبا 10 ہزار کروڑ روپئے تک پہونچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ فی الوقت پرانے جی ایچ ایم سی کے علاقوں میں ٹیکس کا حساب سالانہ کرایہ کی قیمت سے لگایا جاتا تھا جب کہ ریاست کی دیگر میونسپلٹیز ، ضم شدہ 27 بلدیات اور کور اربنریجن میں رجسٹریشن کی گائیڈ لائن ویلیو کی بنیاد پر ٹیکس لیا جارہا ہے ۔ چنانچہ ایک ہی کارپوریشن میں دوہرے نظام کو ختم کر کے یکسانیت لانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے طئے کردہ قواعد کے تحت کیپٹل ویلیو کے مطابق رہائشی عمارتوں پر کم از کم 0.10 فیصد سے زیادہ سے زیادہ 0.50 فیصد اور تجارتی عمارتوں پر کم از کم 0.20 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 2 فیصد تک ٹیکس کا تعین کیا گیا ہے ۔ تاہم جب تک نئی قیمت باضابطہ حتمی شکل اختیار نہیں کرتی ۔ تب تک عارضی طور پر رہائشی عمارتوں کے لیے 0.15 فیصد اور تجارتی عمارتوں کیلئے 0.75 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا ۔ اگر کسی عمارت کا استعمال رہائشی اور تجارتی دونوں مقاصد کیلئے ہوتا ہے تو ان حصوں کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا ۔ مثال کے طور پر اگر کسی رہائشی عمارت کی رجسٹریشن گائیڈ لائن ویلیو 50 لاکھ روپئے ہے اور عارضی نرخ 0.15 فیصد لاگو ہوتا ہے تو سالانہ ٹیکس 7500 روپئے ہوگا ۔ خالی پلاٹس پر گائیڈ لائن ویلیو کا 0.50 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا جب کہ عمارت سے منسلک خالی زمین کیلئے پلنتھ ایریا کے تین گنا یا 1000 مربع میٹر ( جو بھی کم ہو ) تک کے حصے کو عام قواعد کے تحت لیا جائے گا اور اس سے زائد رقبے کو خالی زمین شمار کیا جائے گا ۔ نیز خالی پلاٹس میں کوڑا کرکٹ پھینکنے اور غیر صحت حالات پیدا کرنے پر کیپٹل ویلیو کا 0.25 فیصد اضافی جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا ۔ عوام پر اچانک بوجھ سے بچنے کیلئے ابتدائی طور پر تجویز کردہ 20 فیصد سالانہ اضافے کو اراکین اسمبلی کی مخالفت پر ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو کے اسمبلی میں اعلان کے بعد گھٹا کر زیادہ سے زیادہ 10 فیصد کردیا گیا ہے ۔ جس کے تحت اگر موجودہ ٹیکس 10 ہزار روپئے ہے اور نیا بنچ مارک 20 ہزار روپئے بنتا ہے تو ٹیکس پہلے سال 11 ہزار روپئے ، دوسرے سال 12,100 روپئے اور تیسرے سال 13,310 روپئے کی شرح سے مرحلہ وار بڑھ کر اصل بنچ مارک تک پہونچے گا ۔ جب کہ سال کے وسط میں گائیڈ لائن ویلیو بڑھنے کی صورت میں بھی نظر ثانی شدہ ٹیکس آئندہ مالی سال یعنی یکم اپریل سے ہی نافذ العمل ہوگا ۔
