زمینی جنگ میں استعمال کیلئے دنیا کے 10 عصری رائفلز کی غیر معمولی مانگ

فوجی اور عسکری طاقت میں اضافہ کے لئے مختلف ممالک عصری ہتھیاروں کی تیاری پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں ۔ میزائیل ٹکنالوجی کے فروغ کے ذریعہ طویل مسافتی میزائیلس کی تیاری کے اس دور میں ڈرون ٹکنالوجی کے ذریعہ دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ زمینی لڑائی میں جن ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے ، ان میں ٹینکس کے علاوہ انتہائی عصری رائفلز شامل ہیں۔ دنیا میں عصری رائفلز کی تعداد تقریباً 10 درج کی گئی ہے جو ایسے ممالک کے پاس موجود ہے جو کہ بسا اوقات جنگ کے ماحول میں ہوتے ہیں۔ انتہائی عصری رائفلز کی تیاری میں امریکہ سرفہرست ہے۔ ایک سروے کے مطابق زمینی جنگ میں کام آنے والے 10 انتہائی عصری رائفلز کی تیاری میں جرمنی ، اسرائیل ، روس، چین اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ امریکہ کے M-4 کاربن اور M-16 رائفل کو دنیا کا انتہائی عصری رائفل شمار کیا جاتا ہے جسے امریکہ نے تیار کیا ہے ۔ امریکہ کا SIG MCX اسپیر ایل ٹی رائفل بھی زمینی لڑائی میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ عصری رائفلز میں FN SCAR-16/17 رائفل بلجیم اور امریکہ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دیگر ممالک نے بھی اس ٹکنالوجی کو اختیار کرتے ہوئے اپنی زمینی فوج کو طاقتور بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف غزہ میں زمینی طور پر مہم کے دوران عصری رائفلز کا استعمال کرتے ہوئے سینکڑوںکی تعداد میں فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عراق اور شام میں زمینی کارروائیوں کیلئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عصری رائفلز کا استعمال کیا تھا۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی فضائی حملوں تک محدود ہے اور ابھی تک زمینی لڑائی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ ہندوستان اگرچہ عصری ہتھیاروں اور خاص طور پر میزائلس ٹکنالوجی میں دیگر ممالک پر سبقت حاصل کرچکا ہے لیکن زمینی افواج کیلئے تیار کردہ عصری رائفلز کے معاملہ میں وہ ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسے ممالک جن کے پاس عصری ہتھیار نہیں وہ اپنے بڑے حلیف ممالک سے ہتھیار حاصل کر رہے ہیں۔
