ڈیجیٹل میڈیا کی مقبولیت کے باوجود ہندوستان میں پرنٹ میڈیا کو ترجیح

سوشیل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس کے مقبولیت اختیار کرنے کے بعد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو خطرہ محسوس کیا گیا لیکن ہندوستان میں آج بھی پرنٹ میڈیا کی منفرد شناخت برقرار ہے۔ ایک سروے کے مطابق دیگر ممالک کے مقابلہ ہندوستان میں اخبارات پڑھنے کا رجحان زیادہ پایا گیا ہے ۔ آبادی کے اعتبار سے چین ہندوستان سے آگے ہے لیکن پرنٹ میڈیا کی مقبولیت کے معاملہ میں وہ سبقت حاصل نہ کرسکا۔ ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں روزانہ اخبارات کی تقریباً 800 ملین کاپیاں قارئین میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے معاملہ میں چین دوسرے اور جاپان تیسرے نمبر پر ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کی مقبولیت نے الیکٹرانک میڈیا کو کسی قدر متاثر ضرور کیا لیکن کووڈ کی صورتحال کے باوجود ہندوستان میں پرنٹ میڈیا نے اپنے قارئین میں مقبولیت کو برقرار رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی ممالک میں آج بھی دیگر ذرائع ابلاغ کے مقابلہ اخبارات کو خبروں کی ترسیل کا معتبر اور قابل بھروسہ ذریعہ تصور کیا گیا ہے۔ پرنٹ میڈیا کے سرکولیشن میں ریاستوں کی حصہ داری مختلف ہے جبکہ عالمی سطح پر امریکہ اور جرمنی کو پرنٹ میڈیا میں چوتھا اور پانچواں مقام دیا گیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں جن ریاستوں میں خواندگی کی شرح زیادہ ہے ، وہاں اخبارات پڑھنے کا رجحان بھی زیادہ درج کیا گیا۔ علاقائی سطح پر خواندگی کی شرح کے اعتبار سے اخبارات کا سرکولیشن اور اسے خریدنے کا رجحان بھی مختلف ہے۔ میزورم میں خواندگی کی شرح 98.2 فیصد درج کی گئی جو ملک کی کسی بھی ریاست کے مقابلہ سب سے زیادہ ہے۔ لکشدیپ 97.3 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ناگالینڈ 95.7 اور کیرالا 95.3 فیصد خواندگی کے ساتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہے۔ ملک میں 90 فیصد سے زائد خواندگی کی حامل ریاستوں میں میگھالیہ ، تریپورہ ، چندی گڑھ ، گوا ، پڈوچیری اور منی پور شامل ہیں۔ سروے کے مطابق پرنٹ میڈیا کی علاقائی ریڈرشپ کے اعتبار سے علاقائی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات کا سرکولیشن ہے۔
