گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری

sir-1024x577

گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف ملک میں جاری احتجاج کے حصہ کے طور پر آج حیدرآباد کے حسین ساگر پر ’انسانی زنجیر ‘ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا گیا جس میں کئی سرکردہ جہدکاروں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی اور S.I.R کو رد کرنے کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ ماہر معاشیات پرکالہ پربھاکر نے ملک بھر میں ’’ہرگلی جنتر منتر‘‘ کا اعلان کرنے کے بعد آج حسین ساگر پر ’انسانی زنجیر‘ کی تشکیل کے ذریعہ احتجاج منظم کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کی مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات وجہدکاروں کے علاوہ طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے اسے کامیاب بنایا۔ انقلابی شاعر و جہد کار مخدوم محی الدین کے مجسمہ کے قریب سے بنائی گئی یہ انسانی زنجیر ٹینک بنڈ سے تجاوز کرتے ہوئے دونوں جانب احتجاجیوں سے بھر گیا۔پرکالہ پربھاکر نے اس احتجاجی مظاہرہ کو شہر حیدرآباد میں گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کے نتیجہ میں ملک بھر کے نوجوانوں کے علاوہ سنجیدہ طبقات میں حکومت کے خلاف ناراضگی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں S.I.R کے ذریعہ شہریوں کے بنیادی حقوق چھیننے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔ انہو ںنے SIR کے نام پر شہریوں کو ہراسانی اور ان کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کرتے ہوئے انہیں مشکل حالات کا شکار بنایا جارہا ہے۔ پرکالہ پربھاکر نے بتایا کہ ملک بھر میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف عوامی برہمی میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہ کئے جانے سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کارکردگی شبہات سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہی غیر جانبداری باقی ہے۔ حسین ساگر پر منعقدہ اس احتجاجی پروگرام میں پرکالہ پربھاکرکے علاوہ سابق آئی اے ایس اکنوری مرلی ‘سابق صدرنشین تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن ‘ کرن ویسا‘ محترمہ ماریہ تبسم کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ SIR کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران شہر حیدرآباد میں شروع ہونے والے اس احتجاج کے بعد کہا جارہاہے کہ جنوبی ہند میں شہر حیدرآباد میں تاریخی احتجاجی پروگرام منظم کرنے کی تیاریاں تیز کی جانے لگی ہیں۔ حسین ساگر پر انسانی زنجیر کی تشکیل کے احتجاجی پروگرام کے انعقاد میں پولیس کی جانب سے مداخلت کی کوشش پر انسانی حقوق کے جہد کاروں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں جہاں کانگریس کی حکومت ہے اگر پولیس کی جانب سے SIRکے خلاف جاری احتجاج میں مداخلت کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست میں حکومت کسی کی ہو ملک بھر میں پولیس نظم و نسق مرکزی وزارت داخلہ کے تحت چلایا جارہا ہے۔ حسین ساگر پر احتجاجی پروگرام کی ابتداء کے دوران ہی پولیس کی جانب سے احتجاجیوں کو فٹ پاتھ سے ہٹانے کی کوشش کی جس پر احتجاجیوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور پولیس اس عوامی برہمی کو دیکھتے ہوئے خاموش ہوگئی ۔اس احتجاجی پروگرام میں بڑی تعداد میں برقع پوش خواتین اور لڑکیاں بھی شریک رہیں اور ان کے ہاتھوں میں ترنگا اور پلے کارڈس موجود تھے جن پر دستور بچاؤ‘ملک بچاؤ‘جمہوریت بچاؤ۔ملک بچاؤ ‘ کے علاوہ ایس آئی آر کو رد کرو جیسے نعرے درج تھے۔احتجاج میں شامل نوجوانوں کے علاوہ بزرگ شہریوں نے بتایا کہ SIR کے نام پر جس انداز میں مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے وہ ملک کے آئین کی سنگین خلاف ورزی اور ملک کے ساتھ کی جانے والی بدترین بددیانتی ہے ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی اس بدنیتی اور غیر دستوری اقدام کے خلاف جاری احتجاج میں مزید شدت پیدا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج میں شامل افراد وجہدکاروں نے کہا کہ اگر گیانیش کمار کو اسی طرح تحفظ فراہم کیا جاتا رہے گا تو ایسی صورت میں احتجاج کو مزید شدید کیا جائے گا اور ملک کے ہر گلی اور محلہ میں احتجاج منظم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا جاتا رہے گا۔