چیف منسٹر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کی 26 اکٹوبر کو ممبئی روانگی

حکومت تلنگانہ نے ریاست بالخصوص شمالی تلنگانہ میں زیر التواء آبپاشی منصوبوں میں تیزی لانے اور زرعی شعبے کو نئی زندگی دینے کے لیے ایک اہم انتظامی پیشرفت کی ہے ۔ اس سلسلے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی ، وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد 26 اکٹوبر کو ایک روزہ دورے پر ممبئی روانہ ہوگا ۔ اس اعلیٰ سطحی دورے کا بنیادی اور سب سے اہم ایجنڈہ مہاراشٹرا حکومت کے ساتھ بین ریاستی آبپاشی تنازعات اور مشترکہ بیراجس کی تعمیر پر فیصلہ کن بات چیت کرنا ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے متحدہ ضلع عادل آباد کے تقریبا 2 لاکھ ایکر زرعی اراضی کو سیراب کرنے کے ہدف کے ساتھ دریائے پرانہیتا پر واقع تمڈی ٹہی کے مقام پر 152 میٹر اونچا بیراج تعمیر کرنے کا تفصیلی خاکہ اور پلان تیار کیا ہے ۔ تلنگانہ وفد کا اہم مقصد اس 152 میٹر اونچائی والے بیراج کی تعمیر کے لیے مہاراشٹرا حکومت کو قائل کرنا اور تکنیکی تحفظات کو دور کرنا ہے ۔ اس دورے سے قبل محکمہ تلنگانہ آبپاشی نے تمام تکنیکی ، ماحولیاتی اور سیلابی امور کا جامع مطالعہ مکمل کرلیا ہے ۔ 152 میٹر اونچائی کا بیراج بننے کی صورت میں مہاراشٹرا کی سرحدی اراضی پر سیلاب کے اثرات اور اراضی ڈوبنے کے رقبے کا تکنیکی جائزہ پیش کیا جائے گا ۔ اگر مہاراشٹرا کی جانب سے بیراج کی اونچائی 150 میٹر تک محدود رکھنے کی شرط رکھی جاتی ہے تو چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اس کے لیے بھی متبادل تکنیکی حساب کتاب تیار کرلیا ہے ۔ اس اونچائی سے پرانہیتا کا کتنا پانی ایلم پلی ریزروائر میں منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی تمام تر باریکیوں کا جائزہ لیا جاچکا ہے ۔ اگر ممبئی میں مہاراشٹرا کی قیادت کے ساتھ یہ اجلاس کامیاب رہتا ہے تو اس سے نہ صرف تمڈی ہٹی پراجکٹ پر برسوں سے جاری تعطل ختم ہوگا بلکہ شمالی تلنگانہ کے ہزاروں کسانوں کو آبپاشی کا باقاعدہ پانی میسر آئے گا ۔
