گریٹر حیدرآباد میں ووٹرلسٹوں کی نظرثانی پر تنازعہ

TOP_20-7

گریٹر حیدرآباد اور اس سے متصل اضلاع رنگاریڈی اور میڑچل، ملکاجگری میں ووٹرلسٹوں کی جامع نظرثانی کا عمل متنازعہ روپ اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف فارم۔7 کے ذریعہ ووٹرس کے نام منسوخ کرنے کی درخواستوں کو فوری طور پر منظوری دی جارہی ہے تو دوسری طرف نئے ووٹوں کے اندراج کیلئے فارم۔6 کی درخواستوں کو بڑے پیمانے پر مسترد کرنے پر انتخابی حکام کو سخت تنقیدوں کا سامنا ہے۔ جامع سروے کے پہلے مرحلہ میں جاریہ ماہ 8 سے 16 اکٹوبر کے درمیان اعتراضات اور شکایات موصول کی گئی۔ اس قلیل مدت میں ووٹرلسٹ سے نام خارج کرنے کیلئے موصول ہونے والی 13,207 درخواستوں میں سے 10,099 درخواستوں کو منظوری دی گئی جبکہ باقی درخواستیں زیرغور ہیں۔ شہر میں تقریباً ایک ماہ قبل 43 لاکھ ووٹ منسوخ کئے گئے تھے۔ اس کے بعد 2 جون سے 7 اکٹوبر کے درمیان فارم۔7 کے تحت موصولہ 2.8 لاکھ درخواستوں کو باضابطہ طور پر منظور کیا گیا۔ ووٹوں کی منسوخی کے معاملے میں اسمبلی حلقوں کی حالت کچھ اس طرح ہے۔ بہادر پورہ 41,572، چندرائن گٹہ 35,346، کاروان 31,295، یاقوت پورہ 24,577 اور چارمینار 22,219 صرف ایک ہفتے میں ضلع حیدرآباد میں 6,482، ضلع رنگاریڈی میں 2,885 اور ضلع میڑچل ملکاجگری میں 1,940 فارم۔7 کی درخواستیں وصول ہوئی اور تقریباً تمام درخواستوں کو منظور کرلیا گیا۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران نئے ووٹوں کے اندراج کیلئے 7 لاکھ درخواستیں فارم۔6 موصول ہوئیں جن میں سے 60 فیصد کو منظور کرلیا گیا ہے۔ انتخابی حکام کو خدشہ ہے دوہرے ووٹ رکھنے والے غیرمقامی افراد جان بوجھ کر دوبارہ اندراج کروارہے ہیں۔ حکام کے مطابق ہر فارم۔6 کی موقع پر فیلڈ انویسٹی گیشن کی جارہی ہے۔ اب تک اضلاع حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری میں 22 فیصد درخواستیں مسترد کی جاچکی ہیں جبکہ مزید 1.2 لاکھ درخواستیں ہنوز زیرغور ہیں جنہیں اندرون ایک ہفتہ حل کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔