تلنگانہ حکومت کی آمدنی اور اخراجات پر CAG کی تشویشناک آڈٹ رپورٹ

p11

ریاست کے تازہ حالات پر CAG نے رواں مالیاتی سال 2026-27ء کی پہلی ششماہی (اپریل تا ستمبر) کے دوران تلنگانہ کی مالی صورتحال پر اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس میں ریاستی خزانے میں محصولات کی وصولی کے مقابلے لازمی اخراجات کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت کو مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے بھاری قرضوں پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ریاستی خزانے کو 1.36 لاکھ کروڑر وپئے سے زیادہ کی مجموعی آمدنی ہوئی جوکہ سالانہ بجٹ ہدف کا 44.92 فیصد ہے۔ سالانہ ہدف 1.81 لاکھ کروڑ روپئے کے مقابلے ستمبر تک 82,553 کروڑ روپئے (45.52 فیصد) جمع ہوئے 61,565 کروڑ روپئے GST کے ہدف میں 29,565 کروڑ روپئے حاصل ہوئے۔ سیل ٹیکس (VAT) کے 38,106 کروڑ روپئے میں سے 18,830 کروڑ روپئے میں 9,033 کروڑر وپئے جمع ہوئے اکسائز ڈیوٹی 27,668 کروڑ روپئے کے ہدف کے مقابلے 10,471 کروڑ روپئے ملے۔ نان ٹیکس ریونیو کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں 35,730 کروڑ روپئے کے سالانہ ہدف کے مقابلے ستمبر تک صرف 5,754 کروڑ روپئے کی وصولی ممکن ہوسکی۔ مرکزی ٹیکسوں میں ریاست کے 24,107 کروڑ روپئے حصے کے مقابلے 10,668 کروڑ (44.25 فیصد) ملے جبکہ مرکزی گرانٹس کے تحت درکار رقم کا صرف 15.34 فیصد 3,706 کروڑ روپئے موصول ہوئے۔ ستمبر تک محصولات کی وصولی 92,013 کروڑ روپئے رہی جبکہ حکومت کا ریونیو خرچ 1,07,109 کروڑر وپئے تک پہنچ گیا جس کے نتیجہ میں ریاست کو 15,096 کروڑر وپئے کے ریونیو خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ ملازمین کی تنخواہیں 25,259 کروڑ روپئے سالانہ تخمینے کا (77.76 فیصد) پینشن کی ادائیگی 14,235 کروڑر وپئے سالانہ تخمینے کا (96.60 فیصد) فلاحی سبسیڈیز 10,298 کروڑ روپئے سالانہ تخمینے کا (56.88 فیصد)‘ ریاست میں بنیادی ڈھانچے اور اثاثہ جات کی تخلیق پر خرچ ہونے والی رقم ستمبر تک 27,743 کروڑ روپئے (58.69 فیصد) درج کی گئی۔ حکومت نے رواں مالی سال کی ششماہی کے اندر ہی 44,612 کروڑ روپئے کا نیا قرض حاصل کرلیا ہے۔ سالانہ بجٹ میں مجموعی طور پر 61,457 کروڑ روپئے نئے قرض لینے کی توقع تھی جس کا 72.59 فیصد حصہ ابتدائی چھ ماہ میں ہی حاصل کیا جاچکا ہے۔ اس طرح جاریہ سال کا متوقع مالیاتی خسارہ 58,459 کروڑ روپئے تخمینہ کیا گیا تھا جس کا 76.31 فیصد 44,612 کروڑ روپئے صرف چھ ماہ میں پورا ہوگیا ہے۔ CAG نے اپنی آڈٹ رپورٹ میں واضح انتباہ جاری کیا ہیکہ اگر آنے والے دنوں میں ریاست کے نان ٹیکس اور ٹیکس ریونیو کی وصولی میں بہتری نہ آئی تو سود اور پینشن جیسے لازمی اخراجات دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے بجٹ کی دستیابی کو شدید متاثر کرے گی جس سے قرضوں پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔