ہندوستان کے شہریوں کامذہب تبدیل ہورہا ہے، اسی فوری روکا جانا چاہئے: الہ آباد ہائیکورٹ

ALLAHBAD-HIGH-COURT-CONVERS

الہ آباد ہائی کورٹ نے تبدیل مذہب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسی عمل کو انجام دینے کی اجازت دی گئی تو اس ملک کی اکثریتی آبادی ایک دن اقلیت میں ہوجائے گی۔ تبدیل مذہب کے ملزم کی ضمانت درخواست خارج کرتے ہوئے جسٹس روہت رنجن اگروال کی بنچ نے کہا’ ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 25 مذہب کی آزادی کے تحت مذہب کے تبلیغ کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ ایک مذہب سے دوسرا مذہب تبدیل کرنے یعنی تبدیلی مذہب کی اجازت نہیں دیتا ہے۔عدالت نے کہا کہ درج ایف آئی آر کے مطابق رام کلی پرجاپتی نے کیلاش نامی شخص پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس کے بھائی رام پھل کو کلیانا تقریب میں شامل ہونے کے بہانے ہمیر پور سے دہلی لے گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق گاؤں کے دیگر کئی لوگوں کو سماجی تقریب میں لے جایا گیا اور انہیں عیسائی مذہب میں تبدیل کردیا گیا۔ بنچ نے کہا’ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 25 ضمیر کی آزادی ،آزادانہ پیشے، عمل او مذہب کی تبلیغ کی آزادی کی بات کہی گئی ہے۔ اس حصے کے دیگر تجاویزات کے تحت سبھی افراد یکساں طور سے آزادی کا حقدار ہیں۔بنچ کا کہنا ہے کہ’پرچار’ لفظ کا مطلب مشتہر کرنا ہے لیکن اس کا مطلب کسی شخص کو اس کے مذہب سے دوسرے مذہب میں تبدیل کرنا نہیں ہے۔بنچ نے کہا’ اگر اس عمل کی اجازت دی گئی تو اس ملک کی اکثریتی آباد ایک دن اقلیت میں بدل جائے گی۔ایسے مذہبی اجتماع کو فورا روکا جانا چاہئے جہاں تبدیلی مذہب ہورہا ہے اور ہندوستان کے شہریوں کامذہب تبدیل ہورہا ہے۔