منی پور میں حالات کشیدہ ‘این پی پی نے بی جے پی حکومت سے حمایت واپس لی

تشدد روکنے میں ناکامی کا الزام’ حکومت کو خطرہ نہیں ‘سنٹرل مسلح پولیس فورس کی 50 کمپنیاں روانہ کرنے کا فیصلہامپھال :منی پور میں نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) اور بی جے پی کا اتحاد ختم ہو گیا ہے۔ این پی پی نے بیرین سنگھ حکومت سے حمایت واپس لے لیا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کو لکھے خط میں این پی پی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بیرین سنگھ کی حکومت منی پور میں تشدد روکنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ کونراڈ سنگما کی قیادت والی نیشنل پیپلز پارٹی نے ریاست میں موجودہ امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ بحران سے نمٹنے کے طریقے اور بے قصور لوگوں کی جان کی ضیاع سے غیر مطمئن ہو کر فوری طور پر حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔این پی پی کے ذریعہ جاری کیے گئے خط میں کہا گیا ہے ہم شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ بیرین سنگھ کی قیادت میں منی پور کی ریاستی حکومت، بحران کو حل کرنے اور معمولات کو بحال کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، نیشنل پیپلز پارٹی نے منی پور ریاست میں بیرین سنگھ کی قیادت والی حکومت سے اپنی حمایت فوری طور واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری طرف چیف منسٹر کے استعفیٰ دینے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن چیف منسٹر بیرن سنگھ نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔ واضح ہو کہ منی پور میں ایک بار پھر سے تشدد بھڑک اٹھا ہے۔ ریاست میں پچھلے سال مئی سے ہی میتئی اور کوکی برادری کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے۔ اس تنازعہ نے ایک بار پھر تشدد کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس تشدد میں 3 خواتین اور 3 بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ موت کے بعد سے ہی لوگوں نے مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔ این پی پی سے اتحاد ٹوٹنا بی جے پی کے لیے بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔ حالانکہ ابھی بھی ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنی رہے گی اوراسے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ 60 رکنی منی پور اسمبلی میں بی جے پی کے پاس ابھی بھی اکثریت ہے۔ بی جے پی کے پاس فی الحال 37 سیٹیں ہیں، جو واضح اکثریت کے لیے 31 سے زیادہ ہے۔ اس میں جنتا دل (یونائیٹید) کے 5 اراکین اسمبلی ہیں جو 2022 کے اواخر میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ، بی جے پی کو ناگا پیپلز فرنٹ (این پی ایف) کے 5 اراکین اسمبلی، جے ڈی (یو) کے 1 رکن اسمبلی اور 3 آزاد اراکین اسمبلی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ اسی دوران مرکزی وزارت داخلہ سنٹرل مسلح پولیس فورس کی 50 کمپنیاں تشدد سے متاثرہ منی پور میں تعینات کرے گی تاکہ جیری بام ضلع کی موجودہ کشیدہ صورت حال سے نمٹا جا سکے ۔ ضلع میں صرف اس ماہ کے دوران کم از کم 19 افراد مارے گئے ہیں۔ ذرائع نے پیر کی شام میڈیا کو بتایا کہ آج منعقدہ اجلاس کی صدارت وزیر داخلہ امیت شاہ نے کی جس میں سنٹرل فورسیس کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شاہ نے اتوار کو بھی جائزہ اجلاس منعقد کیا تھا۔دوسری طرف چیف منسٹر بیرن سنگھ نے پیر کی شام 6 بجے امپھال میں تمام غیر کانگریسی ارکان اسمبلی کے ساتھ میٹنگ طلب کی۔ اتوار کو ریاست کے جیربم میں مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص کے ہلاک اور دوسرے کے زخمی ہوا تھا جس کے بعد حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں۔
