ہندوستان میں پہلی بار6 سال کے بچے کی کامیاب کڈنی آٹو- ٹرانسپلانٹ سرجری، ڈاکٹروں نے حاصل کی بڑی کامیابی

ازبکستان سے تعلق رکھنے والا 6 سال کا بچہ ‘بائلیٹرل ولمس ٹیومر’ سے جوجھ رہا تھا ، جو ایک نایاب قسم کا کڈنی کینسر ہے ۔ ڈاکٹروں نے بچے کے گردے کی آٹو ٹرانسپلانٹ کی کامیاب سرجری کر کے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی سرجری ہے اور عالمی سطح پر اب تک ایسے صرف 16 کیس سامنے آئے ہیں۔ سرجری کا پیچیدگی سے بھرا راستہ اس بچے کے دونوں گردوں میں ٹیومر تھے جس سے اس کی جان کو خطرہ تھا۔ بچے کے والدین نے پہلے ازبکستان میں کیموتھراپی کروائی لیکن حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ اس کے بعد انہوں نے ہندوستان میں علاج کرانے کا فیصلہ کیا۔ فورٹس ایسکارٹس ہسپتال کے یورولوجی اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پریش جین کی قیادت میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بچے کا علاج شروع کیا۔ اگست 2024 میں، دائیں گردے میں موجود ٹیومر کو لیپروسکوپک سرجری کے ذریعے نکالا گیا، لیکن بائیں گردے پر ٹشو کی موٹی تہہ اور ٹیومر کی پوزیشن نے سرجری کو مزید مشکل بنا دیا۔ اس پیچیدہ حالت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے آٹو کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آٹو- ٹرانسپلانٹ سرجری کا طریقہ کار سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے بچے کا گردہ جسم سے نکال دیا، پھر ٹیومر نکالا اور بعد میں گردے کو پیٹ کے نچلے حصے میں دوبارہ لگایا۔ یہ سرجری تقریبا آٹھ گھنٹے تک جاری رہی اور مکمل طور پر کامیاب رہی۔ بچے کی حالت میں بہتری سرجری کے بعد بچے کی حالت میں بہتری آئی ہے اور وہ اب صحت مند محسوس کر رہا ہے۔ ڈاکٹروں نے اسے ہندوستان میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے کیونکہ اس قسم کی سرجری پہلے کبھی نہیں کی گئی تھی۔ سرجری کی اہمیت پر ڈاکٹروں کے تبصرے ڈاکٹر پریش جین نے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ سرجری تھی اور ان کی ٹیم نے اسے انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ سرجری گردے کی پیوند کاری اور ٹیومر کے خاتمے کے ساتھ ساتھ مریض کی جان بچانے کے لیے ایک اہم قدم تھا۔
