مرکزی وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر میں تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کا جائزہ لیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر میں تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ پر ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن سمیت مرکز کے زیر انتظام علاقے کے کئی سینئر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔ مرکزی وزیر داخلہ کی جائزہ میٹنگ کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ وزیر داخلہ ملک میں نافذ فوجداری قوانین کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور ان کا کس حد تک استعمال ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں اس بار جموں و کشمیر کی باری تھی۔ اس سے قبل 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کے نفاذ میں جموں و کشمیر کا کافی حد تک کردار اچھا ہے۔ جہاں کہیں بھی چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں ہوئی ہیں ان کو نوٹ کیا گیا ہے اور ان کو دور کیا جائے گا۔ جہاں تک منتخب حکومت کا تعلق ہے تو یونین ٹیریٹری میں قانون کو نافذ کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے لیکن چونکہ یہ نئے قوانین ہیں اور لوگوں کو قانون سے آگاہ ہونا چاہیے، اس لیے منتخب حکومت کو کچھ پیش رفت کرنی ہوگی۔
