پنجاب میں گرفتار اتراکھنڈ کے بابا ترسیم سنگھ قتل کیس کا کلیدی ملزم بھاگا ، پولیس نے چلائی گولی، گرفتار

n657739618174305473958057f61db6f131078900106d0dd85cdbd90c08188ed7c5ee0e72e5a22c9d8e702e

اتراکھنڈ کے ادھم سنگھ نگر ضلع میں واقع ملک کے سکھوں کی اہم عبادت گاہ گرودوارہ نانک متہ صاحب کے ڈیرہ کارسیوا کے سربراہ بابا ترسیم سنگھ کے قتل کا مرکزی ملزم بالآخر پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ گزشتہ سال 28 مارچ کو صبح 6.30 بجے بابا ترسیم سنگھ کو موٹر سائیکل پر آئے دو افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ بابا گرودوارے کے باہر کرسی پر بیٹھے تھے۔ ادھم سنگھ نگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منی کانت مشرا نے میڈیا کو بتایا کہ بابا ترسیم سنگھ قتل کیس کے مرکزی ملزم سربجیت سنگھ کو پنجاب کے ترن تارن سے گرفتار کیا گیا تھا اور اسے سڑک کے ذریعے ادھم سنگھ نگر لایا جا رہا تھا۔ کاشی پور کے کے وی آر اسپتال کے قریب ہائی وے کوتوالی علاقے میں جس گاڑی میں پولیس اہلکار اور سربجیت بیٹھے ہوئے تھے، وہ اچانک ٹائر پھٹنے سے الٹ گئی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سربجیت نے سب انسپکٹر سنجے کمار کی پستول چھین لی اور گندم کے کھیت کی طرف بھاگنے لگا۔ پولیس اہلکاروں نے اسے رکنے کی تنبیہ کی۔ اس کی پرواہ کیے بغیر سربجیت سنگھ نے فائرنگ شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر پولیس کو بھی گولیوں سے جواب دینا پڑا۔ سربجیت کی دونوں ٹانگوں میں گولی لگی ہے۔ اسے پکڑ کر کاشی پور کے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس تصادم میں تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ایس ایس پی مشرا کے مطابق، ”بابا ترسیم سنگھ کے قاتل سربجیت سنگھ کو کل رات ترن تارن (پنجاب) سے گرفتار کیا گیا۔ اس پر دو لاکھ روپے کا انعام تھا۔ کچھ دن پہلے میں نے سربجیت کی گرفتاری کے لیے نانک متہ تھانے سے 12 پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم تشکیل دی تھی۔ اسی ٹیم نے ترن تارن میں ڈیرہ ڈالا اور وہاں کی پولیس کی مدد سے اسے پکڑ لیا۔ تصادم میں تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس جوان شبھم سینی کو کندھے میں گولی لگی۔ گاڑی الٹنے سے ایس ایچ او کے سر پر چوٹیں آئیں۔ سب کا علاج چل رہا ہے۔ سربجیت کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔”