۔86 ممالک کی جیلوں میں قید ہیں ہزاروں ہندوستانی

n6586275871743595889048f82fef1d9ba4bc0ea8d0f51ceb2bde91d0d3a4eb08742ed9d4afb57349d706ff

بیرون ممالک میں کئی ہندوستانی قیدی مختلف چھوٹے یا بڑے جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ سب سے زیادہ ہندوستانی قیدی مسلم ممالک کی جیلوں میں بند ہیں۔ اس بارے میں وزارت خارجہ کی جانب سے تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 86 ممالک میں تقریباً 10,152 ہندوستانی قیدی جیلوں میں ہیں۔ ان میں چین، کویت، نیپال، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت 12 ایسے ممالک ہیں جہاں یہ تعداد 100 سے زیادہ ہے۔ یہ معلومات خارجہ امور کی پارلیمانی مستقل کمیٹی کی چھٹی رپورٹ میں دی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ قیدی سعودی عرب اور یو اے ای میں پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، زیر سماعت قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جیلوں میں ہے، جہاں 2,000 سے زائد ہندوستانی قیدی موجود ہیں۔ دیگر خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت اور قطر میں بھی بڑی تعداد میں ہندوستانی قیدی ہیں، کیونکہ ان ممالک میں بڑی تعداد میں ہندوستانی مزدور کام کرتے ہیں۔ دیگر ممالک میں قید ہندوستانی نیپال میں 1,317 ہندوستانی قیدی ہیں، جبکہ ملائیشیا میں 338 ہندوستانی شہری جیلوں میں قید ہیں۔ منگل کے روز پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، چین میں بھی 173 ہندوستانی قیدی موجود ہیں۔ تین سال میں صرف 8 قیدی واپس لائے گئے رپورٹ کے مطابق، ان 12 ممالک میں سے 9 کے ساتھ قیدیوں کی منتقلی کا معاہدہ پہلے سے موجود ہے۔ ان معاہدوں کے تحت قیدیوں کو اپنے ملک منتقل کرکے باقی سزا پوری کرنی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، پچھلے تین سالوں (2023 سے مارچ 2025 تک) میں صرف 8 ہندوستانی قیدیوں کو واپس لایا جا سکا ہے۔ ان میں ایران اور برطانیہ سے 3-3، اور کمبوڈیا اور روس سے 2-2 قیدی واپس لائے گئے ہیں۔ ششی تھرور کی سربراہی میں کمیٹی نے سوال اٹھایا کانگریس لیڈر ششی تھرور کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے حکومت سے ان قیدیوں کی رہائی کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں دریافت کیا۔ وزارت خارجہ نے وضاحت کی کہ بیرون ملک ہندوستانی سفارتخانے اور قونصل خانے مقامی حکام سے اس معاملے پر مسلسل بات چیت کرتے ہیں۔ حال ہی میں، ایک ہندوستانی شہری امیت گپتا، جو دوحہ میں 12 سال سے زیادہ عرصے تک ٹیک مہندرا کے ریجنل ہیڈ رہے، قطر میں گرفتار کر لیے گئے۔ ان کے خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں محدود رابطے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ کن ممالک کے ساتھ حوالگی (ایکسٹراڈیشن) کے معاہدے موجود ہیں؟ ہندوستان نے پہلے ہی آسٹریلیا، بحرین، بنگلہ دیش، برازیل، کمبوڈیا، فرانس، ہانگ کانگ، ایران، اسرائیل، اٹلی، قازقستان، کویت، روس، سعودی عرب، سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے ساتھ قیدیوں کی حوالگی کے معاہدے کیے ہیں، لیکن اب تک اس میں محدود کامیابی ملی ہے کیونکہ یہ عمل طویل اور وقت طلب ہوتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، قیدیوں کے تبادلے (ٹی ایس پی) کے معاہدے کے تحت کسی قیدی کی حوالگی کے لیے میزبان ملک، قیدی، اور قیدی کو منتقل کرنے والے ملک کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے۔ وزارت داخلہ ٹی ایس پی معاہدے کے تحت قیدیوں کی منتقلی کے معاملات کو دیکھنے والا مرکزی ادارہ ہے اور اس وقت کئی مقدمات زیر غور ہیں۔ وزارت کے مطابق، حکومت دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔