نظم و نسق میں عنقریب تبدیلی، چیف منسٹر نے چیف سکریٹری رپورٹ طلب کی

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نظم و نسق پر کنٹرول حاصل کرنے اور حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری یقینی بنانے آئی اے ایس عہدیداروں کے بڑے پیمانہ پر تبادلے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرکاری اسکیمات پر عمل اور وزراء کی جانب سے عہدیداروں کی مسلسل شکایات کے پس منظر میں چیف منسٹر نے آئی اے ایس عہدیداروں کی کارکردگی پر رپورٹ طلب کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی اہم سرکاری محکمہ جات میں ابھی بھی بی آر ایس دور حکومت میں برسرکار عہدیداروں کو اہم عہدوں پر برقرار رکھا گیا ہے ۔ کئی وزراء نے پرنسپل سکریٹریز اور سکریٹریز کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت کی ہے اور گزشتہ دنوں وزیر اکسائز جوپلی کرشنا راؤ اور سینیئر آئی اے ایس عہدیدار سید علی مرتضی رضوی میں اختلافات کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت نے کارکردگی کی بنیاد پر عہدیداروں کو اہم محکمہ جات تفویض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی محکمہ جات میں آئی اے ایس عہدیدار اپنی من مانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ وزراء کی ہدایات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ کو ہدایت دی ہے کہ وہ عہدیداروں کی کارکردگی پر مبنی رپورٹ پیش کریں۔ چیف منسٹر نے گزشتہ دنوں آئی اے ایس عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس میں ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کئی اہم محکمہ جات میں طویل عرصہ سے فائلز زیر التواء ہیں جس کے نتیجہ میں حکومت کی اسکیمات متاثر ہورہی ہے ۔ کابینہ میں کئے گئے بعض فیصلوں کے حق میں بعض عہدیداروں نے ابھی تک احکامات جاری نہیں کئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جوبلی ہلز ضمنی چناؤ کے بعد نظم و نسق میں بڑے پیمانہ پر تبدیلی کی جائے گی تاکہ عہدیداروں پر کنٹرول حاصل کیا جاسکے۔ کئی ضلع کلکٹرس کے بارے میں عوامی نمائندگی کی جانب سے شکایات موصول ہورہی ہیں ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی ، وزراء کے علاوہ آئی اے ایس عہدیداروں کی پیشی میں تعینات عہدیداروں کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا کہ آئی اے ایس عہدیداروں نے اپنی پیشی میں طویل عرصہ سے مخصوص عہدیداروں کو برقرار رکھا ہے ۔ سکریٹریٹ کے علاوہ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹس کی کارکردگی پر بھی رپورٹ طلب کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ فلاحی اسکیمات پر موثر عمل میں آئی اے ایس عہدیدار حکومت سے تعاون کریں۔ کئی اسکیمات کے سلسلہ میں متعلقہ وزراء کی ہدایت کے باوجود آئی اے ایس عہدیداروں نے تجاویز پیش نہیں کی ہیں۔ حکمرانی کے 22 ماہ کی تکمیل کے باوجود نظم و نسق پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کرنے پر وزراء میں بے چینی دیکھی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے وزراء سے خواہش کی کہ وہ اپنے محکمہ جات کیلئے عہدیداروں کے ناموں کی سفارش کریں تاکہ تعیناتی کے ذریعہ محکمہ جات کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے۔
