حیدرآباد کی ترقی کو3برسوں سے نظر انداز کیا گیا

c2

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں حیدرآباد کی ترقی کو نظر انداز کر دیا ہے۔ حیدرآباد میں غریبوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے سی آر کے دورِ حکومت میں انجام دی گئی تھی لیکن کانگریس کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد صرف وعدے کیے جا رہے ہیں۔ شیرلنگم پلی اسمبلی حلقہ کے حیدر نگر ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کانگریس پارٹی کے صدر دامودر ریڈی نے آج اپنے حامیوں کے ہمراہ بی آر ایس میں شمولیت اختیار کر لی۔ کے ٹی آر نے ان کا پارٹی میں استقبال کیا اور انہیں پارٹی کا کھنڈوا پہنایا۔اس موقع پر کارکنوں کے قصد جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے اراضیات پر قبضے اور شہر کی ترقی کو نظر انداز کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں میاں پور کی اراضی پر قبضے کیے گئے تھے اور بی آر ایس حکومت نے قانونی جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے پانچ سو پچاس ایکڑ اراضی کا تحفظ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس حکومت کی مساعی کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں فیصلہ حکومت کے حق میں آیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پانچ سو پچاس ایکڑ اراضی کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ہی چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہنگامی طور پر پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے اراضی کی فروخت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو اراضیات کی فروخت میں زیادہ دلچسپی ہے جبکہ یہ اراضی غریبوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔کے ٹی آر نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں کانگریس حکومت کی جانب سے حیدرآباد میں ایک بھی تاریخی کام انجام نہیں دیا گیا اور ترقیاتی کاموں کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کے سی آر کے دورِ حکومت میں غریبوں کیلئے دو لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نے انتخابات سے قبل عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ وعدے صرف انتخابی منشور تک محدود ہو چکے ہیں۔ تلنگانہ کے جہد کاروں کو 250 گز اراضی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میاں پور کی 550 ایکڑ اراضی مجاہدینِ آزادی، جہد کاروں اور غریبوں میں تقسیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو جہد کاروں اور تلنگانہ کی جدوجہد میں حصہ لینے والے افراد سے ہمدردی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ 200 ایکڑ اراضی پر غریبوں کیلئے مکانات تعمیر کرے ۔ 100 ایکڑ اراضی تلنگانہ کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے والے شہیدوں کے افرادِ خاندان کے حوالے کی جائے جبکہ 100 ایکڑ پر جہد کاروں کو مکانات الاٹ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی اراضی پر اسکول اور کالجس تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔کے ٹی آر نے کہا کہ ایک سال بعد تلنگانہ میں کے سی آر کی حکومت دوبار آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت کو تلنگانہ میں برسرِ اقتدار آنے سے کوئی طاقت روک نہیں پائے گی۔ تلنگانہ کا ہر شعبہ حکومت کی کارکردگی سے ناراض ہے اور کے سی آر کے دورِ حکومت کو یاد کیا جا رہا ہے۔ کے ٹی آر نے عہدیداروں کو انتباہ دیا کہ اراضیات کے معاملے میں حکومت کا ساتھ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اراضیات کے تمام معاملات کی جانچ کروائی جائے گی اس وقت عہدیداروں کو افسوس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ وہ گریٹر حیدرآباد میں پارٹی کے استحکام پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بی آر ایس کا موقف مستحکم ہے۔ اسمبلی انتخابات میں عوام نے کانگریس کو مسترد کر دیا تھا اور گریٹر حیدرآباد میں بی آر ایس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی گریٹر حیدرآباد میں بی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوگی۔ رکنِ اسمبلی ویویکانند اور دیگر بی آر ایس قائدین اس موقع پر موجود تھے۔