روڈ سیفٹی سے متعلق سپریم کورٹ کی کمیٹی کا دورہ حیدرآباد

7last_2

چیوڑلہ میں گزشتہ دنوں پیش آئے حادثہ میں آر ٹی سی بس کے 19 مسافرین کی ہلاکت کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے روڈ سیفٹی پر قائم کردہ کمیٹی نے حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ کمیٹی کے صدرنشین جسٹس ابھئے منوہر سپرے اور ممبر سکریٹری سنجے بندھو اپادھیائے نے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے حیدرآباد اور اس کے اطراف روڈ سیفٹی کے اقدامات کا جائزہ لیا ۔ کمیٹی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ دیگر کمرشیل اور خانگی بسوں کے ساتھ آر ٹی سی بسوں کی فٹنس کا جائزہ لینے کیلئے اچانک معائنے کریں۔ انہوں نے فٹنس سرٹیفکٹ نہ رکھنے والی بسوں کو ضبط کرنے کی ہدایت دی۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی گئی کہ کوئی بھی گاڑی انشورنس پالیسی اور فٹنس سرٹیفکٹ کے بغیر سڑک پر آنے نہ پائیں۔ کمیٹی نے ریاستی سطح پر خصوصی روڈ سیفٹی فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے عہدیداروں سے کہا گیا کہ وہ قومی شاہراہوں کی توسیع کے کام میں تیزی پیدا کرتے ہوئے عاجلانہ تکمیل کو یقینی بنائیں۔ مائیننگ اور ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ مقررہ حد سے زیادہ کانکنی کی اشیاء کی لاریوں میں منتقلی سے گریز کریں۔ سپریم کورٹ کی کمیٹی سے ملاقات کرنے والوں میں ٹرانسپورٹ کمشنر ایلمبرتی ، ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیش بھاگوت ، کمشنر پولیس سائبر آباد اویناش موہنتی ، ڈائرکٹر مائیننگ بھاویش مشرا ، جوائنٹ ٹرانسپورٹ کمشنر چندر شیکھر گوڑ ، شیوا لنگیا کے علاوہ آر ٹی سی اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ سپریم کورٹ کی کمیٹی مختلف محکمہ جات کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے چیوڑلہ حادثہ کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں روڈ سیفٹی سے متعلق خصوصی فنڈس قائم کرنے کی صرورت ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ تمام محکمہ جات کی موثر کارکردگی کے ذریعہ حادثات کو روکا جاسکتا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے ریاست بھر میں موٹر وہیکل ایکٹ کی خلاف ورزی کے 1.15 لاکھ مقدمات درج کئے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اور دیگر اداروں کی جانب سے سپریم کورٹ کی کمیٹی کو سڑکوں کی توسیع اور حادثات کی روک تھام کے اقدامات سے واقف کرایا گیا۔