اسکالرشپس کیلئے طلباء کے اسناد جاری نہ کرنے پر برہمی

highcourt-copy

فیس بازادائیگی اور اسکالرشپس کے لئے طلبہ کے اسنادات جاری نہ کئے جانے پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیس بازادائیگی کی رقومات وصول نہ ہونے پر طلبہ کے اسنادات کو اپنے پاس رکھنے کا تعلیمی اداروں کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ جسٹس سورے پلی نندا نے گذشتہ یوم تعلیمی اداروں کی جانب سے طلبہ کے اصل اسنادات کو واپس نہ کئے جانے کے معاملہ میں دائر کردہ مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارہ کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ فیس کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر اسنادات اپنے پاس نہیں رکھ سکے۔ جسٹس سورے پلی نندا تلنگانہ کے تعلیمی اداروں کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی پر انتظامیہ کی جانب سے اسنادات جاری نہ کرنے کی شکایت کا جائزہ لے رہی تھیں۔ انہو ںنے مقدمہ کی سماعت کے دوران کالجس کے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ جن طلبہ کے اسنادات روکے گئے ہیں ان کی فوری اجرائی کے اقدامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یا حکومت کی جانب سے اداشدنی بقایا جات کی وصولی کے لئے کالج انتظامیہ کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ طلبہ کی ملکیت (اسنادات) کو بطور ضمانت اپنے پاس رکھیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں کالجس کے انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کی فیس بازادائیگی اسکیم کے بقایاجات کی عدم وصولی کی بناء پر اسنادات جاری نہ کئے جانے کی شکایات عام ہوچکی ہیں اور اس سلسلہ میں تلنگانہ کونسل برائے اعلیٰ تعلیم نے ریاست کی تمام جامعات کے تحت ملحقہ کالجس کے لئے جاری کی گئی ہدایات میں طلبہ کے اسنادات روکنے سے منع کیا ہے لیکن اس پر عمل آوری نہ ہونے کی متعدد شکایات عدالت تک بھی پہنچی ہیں کیونکہ ان احکامات پر عدم عمل آوری کے نتیجہ میں طلبہ کو شدید نقصانات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے اور کئی طلبہ کو اپنا سلسلہ تعلیم جاری رکھنے کے علاوہ بہتر ملازمت کے حصول میں بھی رکاوٹیں پیدا ہونے لگی ہیں۔