چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں طبی امداد کیلئے درخواستوں کے ادخال میں تبدیلی

چیف منسٹر ریلیف فنڈ میںطبی امداد کے حصول کے لئے دی جانے والی درخواستیں جو اراکان اسمبلی وپارلیمان کے علاوہ قانون ساز کونسل کے ذریعہ داخل کی جاتی ہیں ان پر ریاستی حکومت نے اپنے ہی حلقہ سے تعلق رکھنے والی درخواستیں داخل کرنے کی پابندی عائد کردی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے دفتر سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ریاست میں تاحال چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے تحت اب تک 4لاکھ 56ہزار چیکس کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ سی ایم او میں خدمات انجام دے رہے او ایس ڈی مسٹر ویمولہ سرینواس نے یہ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات کے بعد نئے رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے اراکین اسمبلی و پارلیمان کو اس بات سے واقف کروایا جاچکا ہے کہ وہ آن لائن طریقہ کار اختیارکرتے ہوئے اپنے ہی حلقہ جات اسمبلی و پارلیمان سے تعلق رکھنے والی درخواستوں کی سفارش کریں اگر دوسرے حلقہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی درخواستوں کی سفارش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ان درخواستوں کو مسترد کردیا جائے گا۔ ریاستی حکومت میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے ذریعہ جاری کی جانے والی طبی امداد کو مجموعی طور پر 60 ہزار روپئے تک محدود کرتے ہوئے بیشتر درخواست گذاروں کے لئے 60 ہزار روپئے کی طبی امداد جاری کی جا رہی تھی لیکن مخصوص سفارشات کی بنیاد پر اضافی رقومات بھی جاری کی جاتی رہی ہیں لیکن اب جو نئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں ان پر عمل آوری کے بعد کئی شہریوں کو جو ریاست کے مختلف مقامات پر رہنے کے باوجود کسی بھی رکن اسمبلی ‘ رکن قانون ساز کونسل یا رکن پارلیمنٹ سے CMRF کے لئے سفارشی مکتوب حاصل کیا کرتے تھے انہیں اپنے ہی علاقہ کے رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ سے سفارشی مکتوب کے لئے رجوع ہونا پڑے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت نے منتخبہ عوامی نمائندوں اور حلقہ کے عوام کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے لیکن عوامی سطح پر سرکاری طور پر جاری کئے جانے والے ان رہنمایانہ خطوط پر اعتراض کیا جانے لگا ہے کیونکہ سیاسی قائدین و منتخبہ نمائندوں سے تعلقات کے علاوہ حلقہ اسمبلی میں مختلف سیاسی نظریات کے حامل لوگ رہتے ہیں اور سیاسی کارکنوں سے ان کے روابط کی بنیاد پر ضرورت مند سفارشی مکتوب حاصل کرتے ہیں لیکن اگر اراکین پارلیمان ‘ اسمبلی و قانون ساز کونسل کو حلقہ جات کی حد تک محدود کردیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
