نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ منافرت کیخلاف قانون کے جائزہ کیلئے کمیٹی کو مزید وقت درکار

تلنگانہ میں نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف قوانین کا جائزہ لینے کے لئے ’سیلیکٹ کمیٹی ‘ کو مزید وقت درکار ہوگا۔ ریاستی حکومت نے آئندہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس قانون کی منظوری کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کرتے ہوئے ’سیلیکٹ کمیٹی ‘ کی تشکیل عمل میں لائی تھی لیکن آج منعقد ہوئے کمیٹی کا پہلا اجلاس کسی بھی نتیجہ کے بغیر ختم ہوگیا اور مسٹر پونم پربھاکر ریاستی وزیر کی صدارت میں تشکیل دی گئی کمیٹی نے مہلت میں توسیع دینے کی درخواست کے ساتھ اجلاس کو ختم کردیا۔ بتایاجاتاہے کہ اجلاس کے دوران کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ان قوانین کا جائزہ لینے کے لئے کافی مطالعہ کرنا پڑے گا اسی لئے متعدد اجلاس منعقد کرنے کے لئے کم از کم کمیٹی کی معیاد میں 3ماہ کی توسیع کی سفارش کی جانی چاہئے تاکہ نفرت پر مبنی تقاریر ‘ جرائم اور فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات کے انسداد کے لئے تیار کئے گئے قوانین کو مزید بہتر اور مستحکم بنانے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ اسپیکر اسمبلی مسٹر جی پرساد کمار کے چیمبر میں منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران کمیٹی کے صدر و اراکین نے شرکت کی اور کہا کہ انہیں اس بل کے مطالعہ اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے لئے مزید وقت درکار ہے اسی لئے کمیٹی کو متعدداجلاس منعقد کرنے پڑیں گے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے ترامیم اور ان کا جائزہ لینے کے لئے دیئے گئے وقت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو سفارش روانہ کرتے ہوئے کمیٹی کی معیاد میں توسیع کروائی جانی چاہئے کیونکہ قانون کے نکات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جانا ناگزیر ہے اور آج کے اجلاس میں شریک ہونے والے اراکین کمیٹی ان پر مباحث کے لئے پوری طرح سے تیار نہیں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اسمبلی اجلاس کے آئندہ سیشن کے اختتام کے بعد 3ماہ کی مہلت طلب کرنے کا اجلاس میں شریک اراکین نے فیصلہ کیا ہے ۔
