حکومت کا ایم بی بی ایس ۔ بی ڈی ایس فیس میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

ریاستی حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسیس میں داخلہ لینے والے نئے طلبہ کے مفاد میں ایک اہم فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ جاریہ تعلیمی سال کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل کورسیس کی ٹیوشن فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا ۔ سال 2023-26 میعاد کے لیے مقرر کردہ پرانی فیس پر ہی سال 2026-29 کی آئندہ میعاد پر بھی لاگو ہوگی اور طلبہ کو پرانے جی او کے مطابق ہی فیس ادا کرنی ہوگی ۔ اس فیصلے کے تسلسل میں کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنس نے 2023 میں جاری کردہ جی او 132 کو بنیاد بناتے ہوئے احکامات جاری کردئیے ہیں ۔ عام طور پر میڈیکل کالجس میں ہر تین سال بعد ٹیوشن فیس کا جائزہ لے کر اس پرنظر ثانی کی جاتی ہے چونکہ 2023-26 کی مدت مکمل ہوچکی ہے ۔ اس لیے فیس میں اضافے کے اشارے مل رہے تھے تاہم حکومت کے تازہ ترین احکامات کے بعد پرانی فیس ہی برقرار رکھنے کی توثیق کردی گئی ہے ۔ ریاست میں واقع 30 پرائیوٹ میڈیکل کالجس میں تعلیمی سال 2026-27 کے دوران داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے زمرہ وار فیس کچھ اس طرح رہے گی ۔ اے زمرہ ( کنوینر کوٹہ ) سالانہ فیس 60 ہزار روپئے ہوگی ۔ بی زمرہ ( مینجمنٹ کوٹہ ) سالانہ فیس 11.55 لاکھ روپئے سے 13 لاکھ روپئے کے درمیان ہوگی ۔ سی زمرہ ( NRI کوٹہ ) بی زمرہ فیس کا دو گنا وصول کیا جاسکتا ہے ۔ خانگی ڈینٹل کالجس میں بی ڈی ایس کے لیے فیس اے زمرہ ( کنوینر کوٹہ ) سالانہ فیس 45 ہزار روپئے مقرر کی گئی ہے ۔ بی زمرہ ( مینجمنٹ کوٹہ ) سالانہ فیس 4.20 لاکھ روپئے سے 5 لاکھ روپئے تک فیس ہوگی ۔ سی زمرہ ( NRI کوٹہ ) اس زمرے میں بھی بی زمرے کا دو گنا وصول کرنے کی سہولت رہے گی ۔ حکومت کے جاری کردہ جی او میں خانگی کالجس کے ناموں کے ساتھ زمرہ وار فیس کا واضح ذکر کردیا ہے ۔ جس سے میڈیکل کونسلنگ میں حصہ لینے والے ہزاروں طلبہ اور ان کے والدین کو بڑی راحت ملی ہے ۔
