گورنر شیوپرتاپ شکلاکو بی آر ایس وفد نے یادداشت پیش کی

بی آر ایس کے ایک وفد نے آج لوک بھون پہنچ کر گورنر شیوپرتاپ شکلا سے ملاقات کی۔ کانگریس حکومت کے رویہ، اپوزیشن کے ساتھ کئے جانے والے سلوک، بی آر ایس کے ارکان کو اسمبلی کی گیٹ پر روکنے، پولیس کی زیادتی اور خاتون ارکان اسمبلی کی تذلیل سے متعلق تمام ثبوت پیش کرتے ہوئے انصاف کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ ہمیں گورنر پر مکمل بھروسہ ہے۔ اگر ریاست میں انصاف نہیں ملا تو وہ نئی دہلی کا رخ کریں گے اور قومی انسانی حقوق کمیشن اور قومی کمیشن برائے خواتین سے بھی رجوع ہوں گے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 1000 دنوںکی نااہل حکمرانی اور عوام سے کئے گئے وعدوں پر سوال کرنا کیا انتشار پھیلانا ہے، انہوں نے حکومت سے استفسار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران کانگریس نے 100 دن کے اندر ن وعدوں پر عمل کرنے کی ضمانت دی تھی۔ 1000 دن گزر جانے کے بعد بھی ان پر عمل نہیں ہوا، کے ٹی آر نے کہا کہ جب بی آر ایس قائدین اسمبلی میں کانگریس کی نااہلی پر بحث کے لئے پہنچے تو پولیس نے انہیں گیٹ پر روک کر ان کے ساتھ جارحانہ رویہ اپنایا اور خاتون ارکان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ کے ٹی راما راؤ نے بتایا کہ گورنر نے تمام معاملے کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کے ذریعہ ان الزامات اور شکایات کی مکمل تحقیقات کرائیں گے۔ اس کے علاوہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر کانگریس کارکنوں کی جانب سے کی گئی حملہ کی کوششوں پر بھی انہوں نے تشویش کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین اور کانگریسیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کے لئے سرخ قالین بچھایا اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ عوامی مسائل اور اپوزیشن پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف ہر سطح پر قانونی اور جمہوری جنگ جاری رکھیں گے۔
