عثمانیہ یونیورسٹی اور سٹی کالج کی عمارتوں کے تحفظ میں آغا خاں فاؤنڈیشن سے تعاون کی اپیل

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے پرنس رحیم آغا خاں V سے ملاقات کی اور حیدرآباد میں آغا خاں فاؤنڈیشن کی جانب سے تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور تزئین نو کے اقدامات کی ستائش کی۔ چیف منسٹر نے تاج فلک نما پیالس پہونچ کر پرنس رحیم آغا خاں اور اُن کے وفد سے ملاقات کی اور تلنگانہ حکومت کے ساتھ آغا خاں فاؤنڈیشن کے دیرینہ رشتوں کا حوالہ دیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت آغا خاں فاؤنڈیشن اور اُس کی سرگرمیوں کو احترام اور قدر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ریاست کے تاریخی اور ثقافتی ورثہ کی حامل عمارتوں کے تحفظ اور بحالی میں آغا خاں فاؤنڈیشن اہم کردار ادا کررہا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تعاون سے حال ہی میں تلنگانہ قانون ساز کونسل کی عمارت کی تزئین نو اور بحالی عمل میں لائی گئی۔ فاؤنڈیشن نے گنبدان قطب شاہی کی بحالی میں بھی اہم رول ادا کیا۔ چیف منسٹر نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ حکومت موسیٰ ندی کے احیاء کے لئے جامع منصوبہ رکھتی ہے۔ اُنھوں نے پرنس رحیم آغا خاں سے درخواست کی کہ موسیٰ ندی کے دامن میں واقع سٹی کالج اور عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارتوں کی بحالی کے لئے آغا خاں فاؤنڈیشن کے ذریعہ تعاون کریں۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی عمارت گوشہ محل میں تعمیر کی جارہی ہے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ عثمانیہ ہاسپٹل کی موجودہ اور تاریخی عمارت کو تاریخی اور تہذیبی ورثہ کے طور پر ترقی دی جائے اور اُسے محفوظ کیا جائے۔ چیف منسٹر نے پرنس رحیم آغا خاں کو ڈسمبر میں منعقد ہونے والے تلنگانہ گلوبل انوسٹمنٹ سمٹ میں شرکت کی دعوت دی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ 7، 8 اور 9 ڈسمبر کو فیوچر سٹی میں گلوبل سمٹ منعقد کیا جارہا ہے جس میں 100 سے زائد ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت کا مقصد 2047ء تک ملک کی مجموعی شرح ترقی میں تلنگانہ کی حصہ داری کو 10 فیصد تک بڑھانا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ 30 ہزار ایکر اراضی پر فیوچر سٹی تعمیر کی جارہی ہے اور یہ نیٹ زیرو سٹی کے طور پر ترقی حاصل کرے گا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ فیوچر سٹی شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ سے محض 20 منٹ کی مسافت پر تعمیر کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سنگاپور کی ایک کمپنی فیوچر سٹی کا ماسٹر پلان تیار کررہی ہے۔ 15 ہزار ایکر اراضی پر گرین زون قائم کیا جارہا ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ امیزان جیسی معروف کمپنیاں پہلے ہی فیوچر سٹی میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ چیف منسٹر نے آغا خاں فاؤنڈیشن کو تلنگانہ میں تعلیم، سیاحت اور طبی شعبہ جات میں تعاون کی خواہش کی۔ ملاقات کے موقع پر وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین، چیف سکریٹری سنجے جاجو، چیف منسٹر کے اڈوائزر رام کرشنا راؤ کے علاوہ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اور آغا خاں فاؤنڈیشن کے نمائندے موجود تھے۔ ریونت ریڈی نے پرنس رحیم آغا خاں کے والد آغا خاں IV کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور حیدرآباد کے ساتھ آغا خاں خاندان کے دیرینہ تعلقات کی یاد تازہ کی۔ چیف منسٹر نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے تحت بتایا کہ عیسیٰ اور موسیٰ ندیوں کے سنگم سے وجود میں آنے والی موسیٰ ندی پر ناجائز قبضوں کے نتیجہ میں آلودگی کا سامنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت موسیٰ ندی کے احیاء کے علاوہ اطراف کے علاقہ کو نائٹ اکانومی زون میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اُنھوں نے عثمانیہ ہاسپٹل کی موجودہ عمارت کو تہذیبی ورثہ کے طور پر محفوظ کرنے میں آغا خاں فاؤنڈیشن سے تعاون کی اپیل کی۔ چیف منسٹر کے مشیر رام کرشنا راؤ نے پرنس رحیم آغا خاں کو اپنے حالیہ دورہ برطانیہ اور امریکہ کے موقع پر معروف یونیورسٹیز کے ساتھ معاہدات سے واقف کرایا۔ ہارورڈ یونیورسٹی، لندن اسکول آف بزنس کے بشمول دیگر یونیورسٹیز نے حیدرآباد میں اپنی سرگرمیوں کو شروع کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ سکریٹری محکمہ تعلیم یوگیتا رانا نے فیوچر سٹی میں آغا خاں یونیورسٹی قائم کرنے کی درخواست کی۔ اسپیشل چیف سکریٹری وانی پرساد نے سیاحت کے شعبہ میں آغا خاں فاؤنڈیشن کے رول کو اہمیت کا حامل قرار دیا اور مستقبل میں دیگر پراجکٹس میں فاؤنڈیشن سے تعاون کی اپیل کی۔
