ایل ۔ نینو کے اثرات ، تلنگانہ کی عوام کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہونے کا خدشہ

ایل ۔نینو کے اثرات تلنگانہ عوام کے لئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے ظاہر کئے جانے والے خدشات شہریوں کو خوفزدہ کرنے والے ہوتے جارہے ہیں کیونکہ محکمہ موسمیات کے مطابق دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں انتہائی شدید گرمی ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات اور ماہرین موسمیات بالخصوص ایل۔نینو پر تحقیق کرنے والے محققین جو انکشافات کر رہے ہیں وہ نہ صرف عوام کو بلکہ ریاستی حکومت کو بھی خوف میں مبتلاء کرنے لگی ہے۔ایل۔نینو کی صورتحال کا جائزہ لینے والے اداروں اور محکمہ جات کے عہدیدار انہیں موصول ہونے والی تفصیلات کے انکشاف سے بھی خوفزدہ ہونے لگے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ محکمہ آبپاشی ‘ محکمہ زراعت ‘ محکمہ آبرسانی ‘ محکمہ مال کے علاوہ محکمہ برقی کے عہدیداروں کو جنہیں ایل۔نینو کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے حالات کے متعلق تفصیلات مسلسل حاصل ہونے لگی ہیں وہ خود خوفزدہ ہونے لگے ہیں اور ان کا کہناہے کہ ایل۔نینو کے اثرات محض پینے کے پانی کی قلت‘ زرعی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کا سبب ‘ برقی پیداوار میں قلت پیدا کرنے کا سبب نہیں ہوگا بلکہ اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ عہدیداروں کے مطابق محکمہ موسمیات کی جانب سے جو رپورٹس جاری کی جا رہی ہیں ان کے مطابق موسم سرماکے دوران ریکارڈ کئے جانے والے درجہ حرارت میں اگر اس قدر شدید اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حالات انتہائی سنگین نوعیت اختیار کرسکتے ہیں۔ پینے کے پانی کی قلت سے حکومت کسی حد تک نمٹ سکتی ہے اور پانی کے کم استعمال کے ذریعہ شہری اپنے طور پر احتیاط کو یقینی بناسکتے ہیں‘ زیر زمین سطح آب میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ سے نمٹنے کے لئے ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی سربراہی کو عمل میں لاتے ہوئے نمٹنے کے اقدامات ہوسکتے ہیں۔ برقی سربراہی میں کٹوتی کے ذریعہ برقی کی پیداوار میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ سے نمٹنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں اسی طرح اگر زرعی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو حکومت کسانوں کو معاوضہ اداکرتے ہوئے کسی حد تک انہیں راحت پہنچانے کے اقدامات کرسکتی ہے لیکناگر درجہ حرارت میں اچانک 50 ڈگری سیلسیس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حکومت یا کوئی اور طاقت اس صورتحال سے نمٹنے کے موقف میں نہیں ہوگی اسی لئے شہریوں کو انتہائی مشکل صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ دونوں شہرو ںحیدرآباد وسکندرآباد میں موسم سرما کے دوران درجہ حرارت میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ اور گرمی کی شدت و رطوبت میں اضافہ ہی ناقابل برداشت ہوتا جار ہا ہے۔
