سرکاری دفاتر کے ماحول میں تبدیلی کے لیے AI سہولیات سے استفادہ کیا جائے

15-copy

ڈپٹی چیف منسٹر ملوبھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے ذریعے عوام کو بہتر ، شفاف اور تیز رفتار خدمات فراہم کرتے ہوئے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لانے کے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے ۔ آج حیدرآباد میں ’ اے آئی سکشم ‘ کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے سرکاری نظام میں ٹکنالوجی کے موثر استعمال اور انتظامی اصلاحات پر روشنی ڈالی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے زور دے کر کہا کہ کسانوں ، پیشنرس اور عام شہریوں کے لیے سرکاری دفاتر کے ارد گرد کا پورا ماحول اور صورتحال بدلنا چاہئے تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ سرکاری دفاتر میں کام کی رفتار کو تیز کریں اور عوام کے مسائل کو بروقت حل کریں ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ AI کے استعمال سے سرکاری احکامات اور رپورٹس کی تیاری میں قیمتی وقت کی بچت ہوگی اور دفاتر میں ٹکنالوجی سے جو وقت بچے گا اسے براہ راست عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختص کیا جائے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ Ai Saksham کا استعمال سرکاری ملازمین کی کارکردگی کو جانچنے اور بہتر بنانے کے لیے کیا جارہا ہے ۔ عوامی فنڈز کے درست استعمال اور پراجکٹس کی لاگت کا تجزیہ کرنے میں AI انتہائی مفید ثابت ہوگا ۔ اے ائی کی مدد سے اس بات کی آسانی سے نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ آیا حکومت کی فلاحی اسکیمات تمام مستحق اور اہل افراد تک پہونچ رہی ہیں یا نہیں اس کے علاوہ یہ ٹکنالوجی طلبہ کی مانگ کا اندازہ لگانے اور مختلف آلات میں خرابیوں کی بروقت نشاندہی کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی ۔ ٹکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر زور دیتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ عہدیداروں کو AI کے ذریعے فراہم کردہ معلومات اور ڈیٹا کی لازمی طور پر تصدیق کرنی چاہئے ۔ انہوں نے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ عام لوگوں کی ذاتی معلومات اور پرائیویسی کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے گی ۔ تمام AI فیصلوں پر انسانی نگرانی لازمی ہوگی اور سسٹم کے استعمال میں کسی بھی غلطی کی ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہئے ۔