تلنگانہ بی جے پی میں اختلافات، ایٹالہ راجندر اور راجہ سنگھ کے درمیان لفظی جنگ

RAJA-SINGH-ETALAL-RAJENDER

تلنگانہ بی جے پی ایک شرمناک صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ یہاں پارٹی کے سینئر قائدین اور نئے آنے والوں کے درمیان اختلاف نمایاں طور پر سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی کے ملکاجگری ایم پی ایٹالہ راجندر، جنہیں تلنگانہ بی جے پی کے سربراہ کے عہدے کے لئے سب سے آگے دیکھا جاتا ہے، نے ہفتے کے دن پارٹی کے پرانے اور نئے لیڈروں کے درمیان تنازعہ کا مسئلہ اٹھایا۔ شہر میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قدیم اور سینئر لیڈروں کو اہم ذمہ داریاں دینے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی ترقی اور فروغ کے لئے نئے خون اور نئے لیڈروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کو اقتدار میں آنے کے لئے نئے لیڈروں اور نئے عہدیداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے بغیر پارٹی ترقی نہیں کر سکتی۔ پرانے اور نئے آنے والے لیڈروں، دونوں کو پارٹی کی ترقی کے لئے ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ تاہم ایٹالہ راجندر کو جلد ہی بی جے پی کے سینئر لیڈر اور گوشہ محل کے بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ راجہ سنگھ نے ای راجندر کے بیان کے جواب میں ایک ویڈیو جاری کیا ہے جو اب سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جبکہ اسے کئی تلگو ٹیلی ویژن نیوز چینلوں کے ذریعے بھی نشر کیا جا رہا ہے۔ راجہ سنگھ ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ پارٹی قیادت کو نئے ریاستی صدر کا انتخاب کرتے ہوئے ایسے شخص کو ذہن میں رکھنا چاہئے جو طویل عرصے سے پارٹی میں کام کر رہا ہو اور پارٹی نظریہ و ہندو مذہب اور ہندوتوا پر یقین رکھتا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے تلنگانہ بی جے پی کے سربراہ کو جارحانہ ہونا چاہئے۔ اس کے پاس قوم اور مذہب کا احترام ہونا چاہئے۔ وہ تمام لیڈروں کو ساتھ لے کر چلنے کی پوزیشن میں ہو۔ میں پارٹی قیادت سے درخواست کرتا ہوں کہ نئے صدر کی تقرری سے پہلے ان تمام نکات کو مدنظر رکھا جائے اور اس کے بعد ہی تلنگانہ بی جے پی کے صدر کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔