شیخ حسینہ کو خاموش رکھئے…بنگلہ دیش کے سربراہ محمد یونس نے ہندوستان سے کیوں کہی یہ بات؟

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے شیخ حسینہ کے حوالے سے ایک انٹرویو میں ہندوستان سے جو کچھ کہا ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ بنگلہ دیش کا تیور ٹھیک نہیں ہے۔ یونس نے کہا کہ اگر ہندوستان شیخ حسینہ کو اس وقت تک اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے جب تک کہ بنگلہ دیش حکومت انہیں واپس نہیں بلاتی، تو شرط یہ ہوگی کہ حسینہ کو خاموش رہنا پڑے گا۔ شیخ حسینہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم ہیں اور سیاسی بحران اور عام شہریوں کے پرتشدد مظاہروں کے درمیان عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ہندوستان میں ہیں۔ یونس نے کہا کہ شیخ حسینہ ہندوستان میں بیٹھ کر جس طرح کے سیاسی تبصرے کر رہی ہیں وہ ٹھیک نہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیئے ایک انٹرویو میں یونس نے کہا کہ حسینہ کو اس وقت تک خاموش رہنا چاہئے جب تک بنگلہ دیش ہندوستان سے ان کی حوالگی کی درخواست نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں عدم استحکام پیدا نہ ہو، ضروری ہے کہ وہ خاموش رہیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ یونس نے یہ بات پی ٹی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ڈھاکہ میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر دیے گئے اس انٹرویو میں یونس نے زور دیا کہ بنگلہ دیش ہندوستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کو اہمیت دیتا ہے لیکن نئی دہلی کو اس بیانیے سے ہٹ جانا چاہیے جو عوامی لیگ کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو اسلامی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اور یہ کہ ملک شیخ حسینہ کے بغیر افغانستان جیسا ہوجائے گا۔ شیخ حسینہ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد یونس کو عبوری حکومت کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ شیخ حسینہ کے بیانات پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے یونس نے کہا کہ ‘ہندوستان میں کوئی بھی ان کے موقف سے آرام دہ نہیں ہے۔ وہ ہندوستان میں ہیں اور ایسے بیانات دیتی رہتی ہیں، جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر وہ خاموش رہتیں، تو ہم اسے بھول جاتے۔ لیکن ہندوستان میں بیٹھ کر وہ بول رہی ہیں اور ہدایات دئے جارہی ہیں۔ کسی کو یہ پسند نہیں آرہا۔
