جموں و کشمیر کے چھینے گئے تمام حقوق کی بحالی کے لیے کوشش کریں گے:عمر عبدللہ

n63569518317293339225802961b8504d9075bc6a213736d9d672914d26457d998185e4d4394ddf770f440a

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جموں و کشمیر کے عوام سے چھینے گئے حقوق کی بحالی کے لیے تمام تر کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت ایک یونین ٹیریٹری ہیں، لیکن مایوس نہ ہوں، ہم اپنے حقوق واپس لائیں گے جو ہم سے چھینے گئے ہیں۔عمر عبداللہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے خصوصی حیثیت کی بحالی کے اپنے بنیادی مطالبے سے پسپائی اختیار کی ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ماضی میں جموں و کشمیر کے لوگوں نے ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے پر دیگر جماعتوں کے افراد کو دیکھا، لیکن پہلی بار جموں خطے سے ڈپٹی چیف منسٹر منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان لوگوں کے لیے جواب ہے جو ہمیں خاندانی سیاست کا الزام دیتے تھے۔ آج ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چودھری کا نہ مجھ سے کوئی رشتہ ہے اور نہ میرے خاندان سے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر کا تقرر میری مجبوری نہیں تھی، بلکہ میں جموں کے عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ حکومت میں ان کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا کشمیر کا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج وزیر اعلیٰ اور ڈپٹی وزیر اعلیٰ ایک ہی جماعت سے ہیں اور یہ نیشنل کانفرنس کو صرف مسلمانوں کی جماعت کہنے والوں کے لیے ایک جواب ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ کانگریس نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا وہ کابینہ میں شامل ہونا چاہتی ہے یا نہیں۔انہوں نے آزاد امیدواروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے انتخابات کے نتائج سامنے آتے ہی نیشنل کانفرنس کی حمایت کا اعلان کیا، ان کی مدد سے حکومت سازی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے انتخابات کے نتائج سے پہلے ہی یہ بیانات دینا شروع کر دیے تھے کہ جموں کے ساتھ ناانصافی ہوگی، لیکن میں نے ہمیشہ کہا کہ میں جموں کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلوں گا تاکہ وہ خود کو حکومت سے علیحدہ محسوس نہ کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حلقہ بندی کا عمل اور مخصوص جماعتوں کے حق میں کی جانے والی ریزرویشن کی کوششیں ناکام ہو گئیں اور عوام نے ان چالوں کو رد کر دیا۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ انتخابات جیتنا تو آسان مرحلہ تھا، لیکن اب اصل کام عوام کی مشکلات کو کم کرنا اور حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو ختم کرنا ہے۔پچھلے آٹھ برسوں میں نیشنل کانفرنس کو سیاسی طور پر ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں، لیکن کارکنوں اور رہنماؤں نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا اور ثابت کر دیا کہ نیشنل کانفرنس صرف رہنماؤں کی نہیں بلکہ ایک مضبوط کارکنوں کی جماعت ہے۔عمر عبداللہ نے اس موقع پر میڈیا کو بھی یقین دلایا کہ ان کے خلاف لکھنے پر کسی کو سزا نہیں دی جائے گی اور میڈیا کو آزاد اور بے خوف ماحول میں کام کرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں حکومت کی غلطیاں اجاگر کی جائیں، وہیں نیشنل کانفرنس کی حکومت کے اچھے کاموں کو بھی سامنے لایا جائے۔