حیدرآباد کے تاریخی 13 دروازے جو فصیل بند شہر کے باب الداخلے ہوا کرتے تھے

حیدرآباد تاریخی عمارتوں کا شہر ہے۔ آج سے 450 سال پہلے شہر تک پہنچنے والے لوگ ان شاندار دروزوں سے داخل ہوتے تھے جو شہر میں داخلے کے راستوں میں بنائے گئے تھے ۔ حیدرآباد کو کبھی فصیل بند شہر کہا جاتا تھا ۔ اس دور میں شہریوں کی حفاظت کیلئے دیواروں کی ضرورت تھی چنانچہ حیدرآباد میں داخلے کیلئے 13 دروازے اور کھڑکیوں کے ساتھ لمبی دیوار تعمیر کی گئی تھی جن کے نام اس طرح ہیں : (1) پرانا پل دروازہ ، (2) دبیر پورہ دروازہ ، (3) علی آباد دروازہ ، (4) فتح دروازہ ، (5) چمپا دروازہ ، (6) دودھ باولی دروازہ ، (7) لال دروازہ ، (8) گولی پورہ دروازہ ، (9) دلی دروازہ ، (10) چادر گھاٹ دروازہ ، (11) میر جملہ دروازہ ، (12) یاقوت پورہ دروازہ اور (13) افضل دروازہ ۔ ابتدائی طور پر 12 دروازے تھے ۔ نیا پل تعمیر کے بعد 13 واں دروازہ ضرورت کے لحاظ سے بنایا گیا ۔ جس کا نام افضل دروازہ رکھا گیا ۔ تمام دروازے لوہے اور بھاری لکڑی سے بنے تھے ۔ مسلح گارڈز چوبیس گھنٹے داخلی راستوں پر تعینات رہتے تھے ۔ دروازے رات کے وقت بند ہوتے تھے اور صبح ہی کھلتے تھے ۔ صرف ہنگامی حالات میںہی رات میں دروازے کھولے جاتے تھے ۔ دور دراز مقامات سے شہر آنے والے زائرین کو رات قیام کیلئے ہر دروازے کے قریب ایک ریسٹ روم بنایا گیا تھا ۔ شہر کے چاروں طرف دوڑتی ہوئی لمبی دیواریں معیاری گرینائیٹس سے بنائی گئی تھی اور اسے اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ گھوڑے راستوں پر گشت کرسکیں ۔ اہم مقامات پر ایک برج تعمیر کی گئی جس پر توپیں نصب کی گئیں ۔ دیواریں 18 فٹ لمبی ، 8 فٹ چوڑی اور 54 فٹ بلند تھیں ۔ فصیل والے شہر کی دیواریں تقریبا ہر چھ میل کے فاصلے پر داخل ہونے جملہ 13 دروازہ تھے ۔ دیواروں میں چھوٹے داخلی راستے بھی بنائے گئے تھے ۔ جس میں کھرکیاں بھی لگائی گئی تھیں ۔ ان دیواروں کا قلی قطب شاہ کے دور میں 1518 سے 1687 کے درمیان کام شروع کیا گیا اور طویل عرصے کے بعد 1724 سے 1948 کے درمیان مکمل کیا گیا ۔ 13 دروازوں میں سے آج صرف دو دروازے ایک پرانا پل دروازہ اور دوسرا دبیر پورہ دروازہ ہی باقی رہ گئے ہیں ۔۔ 1 ) ۔ پرانا پل دروازہ 1578 میں بنایا گیا تھا جو حیدرآباد میں تعمیر ہونے والا پہلا پل ہے جو جنوبی ہندوستان میں سب سے قدیم پل ہے جس کی لمبائی 600 فٹ اور چوڑائی 35 فٹ ہے ۔ یہ پل گولکنڈہ اور حیدرآباد کو ملانے قطب شاہی خاندان کے دور میں بنایا گیا تھا ۔ یہ پل حیدرآباد کی قدیم ترین نشانیوں میں شمار ہوتا ہے ۔ 1908 کی عظیم طغیانی کے بعد محفوظ بچنے والا واحد پل تھا ۔ پل میں 22 محرابیں ہیں پرانا پل دروازہ واقعی بڑا اور قدیم ہے اور کافی حد تک بوسیدہ ہوچکا ہے جو پینٹ کے کوٹوں کے نیچے چھپا ہوا ہے اس کے پیچیدہ نقش و نگار اور شاندار محرابیں گزرے ہوئے دور کی فنکارانہ صلاحیتوں کو بیان کرتی ہیں ۔ شہر میں داخلے کیلئے اہم مقام کے طور پر کام کرتا تھا اور اس وقت کی اہم اور جمالیاتی حساسیت کا ثبوت ہے ۔ پرانا پل دروازہ کے مسافرین اس کے پتھر کے کام پر باریک بینی سے توجہ سے متاثر ہوتے ہیں ۔ جو وقت کی کسوٹی کا مقابلہ کرتی ہے ۔ دکانداروں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے بھرا ہوا ہے ۔ جو مقامی لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتا ہے ۔ یہ نہ صرف جسمانی ساخت کے طور پر ہی نہیں بلکہ حیدرآباد کی عوام کے لیے لچک اور فخر کی علامت کے طور پر ہے ۔۔ 2 ) ۔ دبیر پورہ دروازہ یہ ماضی میں سب کیلئے ایک محافظ کے طور پر کھڑا تھا لیکن اس کا اپنا کوئی سرپرست نہیں ۔ دبیر پورہ دروازہ ان دو دروازوں میں سے ایک ہے جو قلعہ بندی کی ایک بڑی دیوار کا حصہ تھا اور اس کے دروازے اور وکٹیں جو شہر کو گھیرے ہوئے ہیں اپنی شناخت کو برقرار رکھنے جدوجہد کررہے ہیں ۔ مقامی حکام کی جانب سے ہر سال ڈھانچے کو پینٹ کرنے کے بعد دروازے کی اصل رونق دکھائی دیتی ہے ۔ یہ گرینائیٹ سے تعمیر کیا گیا تھا ۔ یہ دروازہ داخلی اور خارجی راستوں کے طور پر کام کرتا تھا ۔ درحقیقت مغلوں کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا لیکن سیلاب کے دوران گرنے کے بعد اسے سالار جنگ اول کے دور میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا ۔ اس کا فن تعمیر پرانا پل دروازے سے مختلف ہے ۔ دروازے کی چابیاں ایک سینئیر ایڈمنسٹریٹر کی تحویل میں رکھی گئی تھی ۔ چھ میل کے فریم کی دیوار کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ اب بھی بچا ہوا ہے ۔ سٹی کالج ، علی آباد ، سلطان شاہی اور فتح دروازہ میں اس کی باقیات تلاش کی جاسکتی ہیں ۔ دیوار کی تعمیر قطب شاہی دور میں شروع ہوئی اور اس کی تکمیل آصف جاہی اول کے دور میں ہوئی ۔۔ 3 ) ۔ علی آباد دروازہ حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کے قریبی فاصلہ پر علی آباد علاقہ ہے جہاں شہر کی دیوار کے 13 دروازوں میں سے ایک علی آباد دروازہ تھا ۔ قطب شاہی دور میں مسافروں کیلئے رات گزارنے ایک ریسٹ روم تھا ۔ مغلوں نے 1700 کی دہائی کے اوائل میں بنائی تھی ۔ ناقص دیکھ بھال کی وجہ سے خستہ حال میں ہے ۔ سرائے میں 60 کے قریب کمرے تھے جن میں کئی کمرے پہلے ہی منہدم ہوچکے ہیں اور اب باقی کمرے سڑک کو چوڑا کرنے پورے سرائے کو منہدم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔۔ 4 ) ۔ فتح دروازہ یہ قلعہ محمد نگر کا ایک نمایاں داخلی دروازہ تھا جو قلعہ گولکنڈہ کی سلطنت کا قطب شاہی دارالحکومت تھا جب اورنگ زیب نے 8 ماہ کے طویل محاصرے کے بعد قدم رکھا ۔ قلعہ محمد نگر کی حفاظت کرنے والی مضبوط دیواروں نے اورنگ زیب کی تجربہ کار مغل فوج کے حملے کا مقابلہ کیا ۔ یہ محاصرہ کرنے والے ماہرین کی ایک فوج تھی جو دنیا کے مختلف حصوں سے تیار کی گئی تھی ۔ لکڑی کے مضبوط دروازوں کے ساتھ دو بڑے دروازے جو لوہے کے کھوٹ کے اسپاٹکس سے مضبوط کئے گئے ہیں ۔ دونوں طرف تیس فٹ اونچی دیواریں ان کے اوپر بھاری ہتھیاروں سے لیس گارڈز نے شہر میں داخلے کو یقینی بنایا ۔۔ 5 ) ۔ چمپا دروازہ یہ دروازہ حیدرآباد شہر میں داخلی راستوں میں ایک تھا ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے عقب میں تھا ۔ شہر کی دیوار صوبیدار مبارز خان عماد الملک کے آخری ایام میں کھڑی کی گئی تھی ۔ 6 ) ۔ دودھ باولی دروازہ یہ دروازہ بھی شہر کے اہم راستوں میں سے ایک تھا جو 9.7 کیلو میٹر کے دیوار کے ساتھ تھا ۔ عہدیداروں اور حکام کی لاپرواہی کی وجہ سے وہ بھی منہدم ہوگیا تھا ۔ 7 ) ۔ لال دروازہ یہ 1907 میں بنایا گیا تھا حیدرآباد کے مضافاتی علاقے کے داخلی دروازے پر بڑا سرخ دروازہ بنایا گیا تھا جس کو لال دروازہ کے نام سے رکھا گیا ۔ نظام نے اس دروازہ کا نام دیا اور حکومت نظام کے وزیراعظم مہاراجہ کشن پرشاد نے دروازے کے قریب واقع مندر سے بونال تہوار کا آغاز کیا تھا جو آج بھی ہر سال بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے ۔ حیدرآباد کے نظام میر محبوب علی خاں اس مندر کو عطیہ دیا کرتے تھے ۔ 8 ) ۔ گولی پورہ دروازہ یہ پرانے شہر کے حصے میں بنا ہوا تھا ۔ حیدرآباد کی 17 ویں اور 18 ویں صدی کے دوران تعمیر کیا گیا تھا یہ گرینائیٹ بلاکس سے بنا ہوا تھا اور تقریبا چھ میل لمبا تھا ۔ 1908 کی طغیانی سے اس دروازہ کو دور اطراف کے علاقے میں کافی نقصان پہنچا تھا ۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں حکومت نے اسے جو پہلے ہی تقریبا منہدم ہوچکا تھا اسے مکمل منہدم کردیا ۔ 9 ) ۔ دلی دروازہ یہ دروازہ ان 13 دروازوں میں سے ایک ہے جو پرانا پل اور نیا پل کے درمیان بنایا گیا تھا جو سڑک کی توسیع کے دوران منہدم کردیا گیا تھا جس کو آج بھی اس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ 10 ) ۔ چادرگھاٹ دروازہ اس علاقہ کو دریا کے اس پار ایک ایاکٹ کے نام سے پکارا جاتا تھا جس سے چادر یا پانی کی چادر بنتی تھی ۔ 1831 میں بنایا گیا تھا ۔ 1886 میں پہلی بار میونسپلٹی قرار دیا گیا تھا ۔ چادر گھاٹ دروازہ بھی داخلی دروازوں میں سے ایک اہم تھا ۔ 11 ) ۔ میر جملہ دروازہ اس دروازہ کی الگ ہی پہچان تھی ۔ وقت کے ساتھ اس کی ساکھ ختم ہوتی چلی گئی ۔ میر جملہ دوم 1591 سے 1663 کے دور میں اردستانی میر محمد کے نام سے بھی جانے جاتے تھے ۔ ایک فوجی جنرل اور ہیروں کے تاجر ہونے کے ساتھ گولکنڈہ سلطنت کے وزیر تھے ۔ بعد میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے دور میں بنگال صوبیدار بنایا گیا تھا ۔ میر جملہ نے سلطنت گولکنڈہ میں سپاہی کے طور پر خدمت کرکے ترقی کی اور ساتھ ہی وہ ہیروں کی تجارت بھی کرتے تھے ۔ 12 ) ۔ یاقوت پورہ دروازہ حیدرآباد کے نظام کے ذریعہ بنایا گیا تھا حیدرآباد کو موتیوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ ساتویں نظام میر عثمان علی خاں کے دور میں حیدرآباد ریاست جواہرات اور موتیوں کی ایک تجارتی منڈی تھی شہر میں داخلی راستے میں ایک دروازہ بنایا تھا جس کا نام یاقوت پورہ دروازہ رکھا تھا جو ایک عرصہ پہلے منہدم ہوگیا تھا ۔ 13 ) ۔ افضل دروازہ اس دروازہ کو حیدرآباد کے پانچویں نظام افضل الدولہ نے 1860 کی دہائی میں دریائے موسیٰ کے کنارے تعمیر کیا تھا۔ 1908 کی طغیانی میں یہ دروازہ منہدم ہوگیا تھا ۔۔ حیدرآباد کے 13 دروازوں میں اب صرف دو دروازے ہی باقی رہ گئے ہیں ۔ جس کی حفاظت حکام کی ذمہ داری ہے ۔۔
