اے آئی چپ کی برآمد پرنئی پابندیوں کااعلان

n6476537921736894464613d28c48d68f3c9d4e502e2ab087ecd1eb87bfaeedd0ebcfc3a9e41b81431be608

بائیڈن انتظامیہ نے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ‘مائیکروپراسیسر’ کی برآمد، اور اس کی ملکیت اور اے آئی سسٹمز کے صارفین کے باہم رابطوں کے قواعد سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ انہیں چپ بھی کہا جاتا ہے۔ قانون کو 120 دنوں کے لیے عوامی تبصروں اور ردعمل کے لیے پیش کیا جائے گا۔ نئے قانون کے بارے میں امریکی انتظامیہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ اعلان کردہ قانون میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ قابل اعتماد شراکت دار ممالک کی کمپنیاں، جدت و اختراع کو فروغ دینے کے لیے اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی تک کیسے رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ کامرس کی وزیر جینا ریمانڈو نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا اطلاق حقیقتاً دنیا بھر میں ہر صنعت کے ہر کاروباری عمل میں ہر جگہ ہو رہا ہو گا، کیونکہ اس میں پیداواری استعداد بڑھانے، سماجی شعبوں، صحت کی دیکھ بھال اور اقتصادی فوائد میں اضافہ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔