وزیر اعظم کے لئے نازبیا الفاظ استعمال کرنے والے استاد کو اے ایم یو نے دیا نوٹس

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اب ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے شعبہ سنسکرت کے ایک استاد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر زبردست وائرل ہورہا ہے جس میں وہ ملک کے وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی اترپریش کے لئے نازیبا الفاظ کا استعمال کررہے ہیں مذکورہ وائرل ویڈیو کی شکائت کانگریس یوتھ کے ریاستی صدر راجہ بھیا نے علی گڑھ کے تھانہ سول لائن میں کی ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ بھیا نے کہا کہ مذکورہ اسسٹنٹ پروفیسر اریمردن سنگھ پال سنگھ کا تقرر کچھ وقت پہلے ہی شعبہ سنسکرت میں ہوا ہے اورا نکے والد سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر شیام لال پال سنگھ ہیں۔انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انکی تقرری بھی غلط طریقہ سے ہوئی ہے۔ غورطلب ہے کہ جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے اس میں اسسٹنٹ پروفیسر اریمردن سنگھ پال سنگھ نشہ کی حالت میں نظر آرہے اور مذکورہ ویڈیو اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کا بتایا جارہا ہے مذکور ہ ویڈیو میں وہ وہاں کے ملازمین سے بھی اٹکتے ہوئے نظر آرہے ہیں ساتھ ہی ڈاکٹروں اور وزیر اعلی اور وزیر آعظم کا نام لیکر بھی نازیبا الفاظ استعمال کررہے ہیں۔ کانگریس لیڈر راجہ بھیا نے مطالبہ کیا ہے انکے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے وہیں انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ انکو بچانے کی کوشش کررہا ہے۔اس تعلق سے اے ایم یو کی ممبرانچارج دفتر رابطہ عامہ پروفیسر وبھا شرما نے بتایا کہ جیسے ہی یہ معاملہ اے ایم یو انتظامیہ کے سامنے آیا ہے اسکی حساسیت کو محسوس کرتے ہوئے ایک شوکاز نوٹس دیا گیا ہے اور 48گھنٹہ میں انسے جواب طلب کیا گیا ہے،انھوں نے بتایا کہ جس طرح کی زبان کا استعمال مذکورہ ویڈیو میں کیا جارہا ہے وہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے اگر وہ 48 گھنٹہ میں اپنا جواب نہیں دیتے ہیں تو آگے کی سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی، فی الحال تدریسی ذمہ داریوں سے بھی انکو ہٹا دیا گیا ہے۔
