برفانی تودے میں پھنسے تمام مزدور مل گئے ، 8 نعشیں نکا لی گئیں

تلاش اور بچاؤ ٹیموں نے اتوار کو ان چاروں مزدوروں کی نعشیں نکال لیں جو جمعہ کو اتراکھنڈ میں ہندوستان۔چین سرحد پر مانا گاؤں کے قریب برفانی تودہ گرنے سے لاپتہ ہو گئے تھے ۔اس سے قبل ہفتے کی رات چار مزدوروں کی نعشیں برآمد ہوئی تھیں۔ اس طرح اب تک کل آٹھ مزدوروں کی نعشیں نکالی جا چکی ہیں۔ دو شدید زخمی کارکنوں کا آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) رشی کیش میں علاج کیا جا رہا ہے ۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سکریٹری ونود کمار سمن نے آج شام کہا کہ تلاش اور بچاؤ ٹیموں کی طرف سے جنگی بنیادوں پر بچاؤ کا کام مکمل ہو گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جیوتیرمٹھ میں مہلوک کارکنوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کا عمل جاری ہے ۔ انتظامیہ کی جانب سے ہلاک افراد کی نعشوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو شدید زخمی کارکنوں کا ایمس میں علاج کیا جا رہا ہے ۔ ایمس رشی کیش انتظامیہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق ان کی حالت میں بہتری آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن کے دوران آج چار لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ کل بھی چار لاشیں نکالی گئی تھیں۔ اس طرح سے اب تک کل آٹھ لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔مسٹر سمن نے بتایا کہ بدری ناتھ/ مانا سے بحفاظت بچائے گئے 46 کارکنوں میں سے 44 کارکنوں کو جیوتیرمٹھ کے آرمی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ، جہاں ان کی حالت نارمل بتائی جاتی ہے ۔ ان کے علاج معالجے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں اور ان کی ضروریات کا پورا خیال رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن میں تیزی لانے کے لیے جی پی آر آج جولی گرانٹ ہوائی اڈے پر پہنچا اور اسے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کے ذریعے جائے حادثہ پر بھیجا گیا۔ اس کے علاوہ تھرمل امیجنگ کیمرہ، وکٹم لوکٹنگ کیمرہ، برفانی تودہ راڈ، ڈاگ اسکواڈ کو این ڈی آر ایف نے موقع پر بھیجا اور ان کے ذریعے بڑے پیمانے پر بچاؤ آپریشن کیا گیا۔
