کونسل کی 5 نشستوں کے چناؤ کیلئے پرچہ نامزدگی کا مرحلہ شروع

n6544398341741040327707a8a9152508214aaea3f0b6b221ff36b78bd0476366e75b19d8bfde220bf8e653

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تلگو ریاستوں کی 10 ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات کے لئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ ایم ایل اے کوٹہ کے تحت 10 ایم ایل سی نشستوں میں تلنگانہ اور آندھراپردیش سے فی کس 5 نشستوں شامل ہیں۔ اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ تلنگانہ میں 29 مارچ کو جن 5 ارکان کونسل کی میعاد ختم ہورہی ہے اُن میں محمد محمود علی، ستیہ وتی راتھوڑ، ایس سبھاش ریڈی، وائی ملیشم (تمام بی آر ایس) اور مرزا ریاض الحسن آفندی (مجلس) شامل ہیں۔ آندھراپردیش میں 4 ارکان ڈی راما راؤ، ٹی اشوک بابو، بی تروملا نائیڈو، وائی رام کرشنوڈو کی میعاد 29 مارچ کو ختم ہوگی جبکہ جے کرشنا مورتی کی میعاد 15 مئی 2024 ء کو ختم ہوچکی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اعلامیہ کے مطابق 10 مارچ تک پرچہ جات نامزدگی داخل کئے جاسکتے ہیں۔ 11 مارچ کو پرچہ جات کی جانچ ہوگی اور 13 مارچ تک نام واپس لئے جاسکتے ہیں۔ رائے دہی 20 مارچ کو صبح 9 تا سہ پہر 4 بجے رہے گی اور اُسی دن شام 5 بجے رائے شماری اور نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا۔ تلنگانہ میں عددی طاقت کے اعتبار سے کانگریس کو 4 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جبکہ بی آر ایس کو ایک نشست حاصل ہوگی۔ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی کانگریس اور بی آر ایس میں ایم ایل سی نشستوں کے دعویداروں کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ کانگریس پارٹی نے سماجی انصاف کی بنیاد پر ایسے قائدین کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے جو اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹس سے محروم رہے اور جنھوں نے پارٹی کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے مسلم اقلیت اور ایس سی طبقہ کو ایم ایل سی نشست الاٹ کرنے پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے باقی دو نشستوں کے امیدواروں انتخاب کا اختیار ریاستی قیادت پر چھوڑ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے آئی سی سی کی انچارج تلنگانہ میناکشی نٹراجن سے مشاورت کے بعد امیدواروں کے ناموں کا انتخاب کیا جائے گا۔ بی آر ایس میں واحد نشست کے لئے ستیہ وتی راتھوڑ اور محمد محمود علی میں ٹائی ہوچکا ہے اور یہ فیصلہ پارٹی سربراہ کے سی آر پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ امیدوار کے نام کا اعلان کریں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اِن دونوں کے علاوہ بھی کئی قائدین دعویدار ہیں اور 7 مارچ تک کے سی آر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ اگر صرف 5 امیدوار میدان میں ہوں تو رائے دہی کی ضرورت نہیں پڑیگی اور متفقہ طور پر انتخاب عمل میں آئے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس کے بعض قائدین نے کے سی آر کو مشورہ دیا ہے کہ 2 امیدوار میدان میں اُتاریں اور منحرف ارکان کو وہپ جاری کرکے پارٹی امیدوار کے حق میں رائے دہی کیلئے مجبور کیا جائے۔ اگر بی آر ایس 2 امیدوار میدان میں اُتارتی ہے اور منحرف ارکان وہپ کی پابندی کریں تب بھی بی آر ایس کو 2 نشستوں پر کامیابی کیلئے مزید 3 ارکان کی ضرورت پڑیگی۔ گزشتہ میعاد میں بی آر ایس کی حلیف مجلس نے اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی کانگریس سے دوستی کرلی ہے لہذا بی آر ایس کو 2 نشستوں پر مقابلہ کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔