وقف ترمیمی قانون کے خلاف اب مرکزی حکومت بھی پہنچی سپریم کورٹ،چیلنج کرنے والی عرضیوں پر عدالت عظمیٰ سے کی یہ بڑی اپیل

n6594677231744118396712ca2f7dcd6928c12bf8f8227ffaff491715c515d18632ec0c4612ee510c1c3698

وقف ترمیمی قانون کے خلاف دائر سپریم کورٹ میں عرضیوں پر بہت جلد سماعت کا امکان ہے البتہ اس سے پہلے مرکزی حکومت نے ایک نئی عرضی داخل کردی ہے ،ذرائع کے مطابق کوریٹیو پیٹیشن داخل کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے مرکزی حکومت نے اپیل کی ہے کہ وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے بعد کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے مرکزی حکومت کواپنا موقف رکھنے کی ضرور مہلت دی جائے۔ مرکزی حکومت نے اس طرح ایک بحث کا نیا دورازہ کھولنے کی تیاری کردی ہے تاکہ اس کے ذریعے کچھ وقت نکل سکے۔ مرکز کی طرف کوریٹیو عرضی داخل کرکے سپریم کورٹ کے جلد فیصلے کی امید کو مدھم کردیا گیا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ عدالت اس معاملے میں کس طرح کا ایکشن لیتی ہے۔وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی فہرست طویل ہوتی چلی جارہی ہے ۔ اب تک قریب ایک درجن عرضیاں سپریم کورٹ میں دائر کی جاچکی ہیں جن میں صرف اور صرف اس قانون کو منسوخ کرنے کی اپیل کی گئی ہے ،اسی بیچ کل سپریم کورٹ میں سینئر وکیل کپل سبل نے چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے اس معاملے پر فوری سماعت کی اپیل کی تھی جس پر چیف جسٹس نے انکار کرتے ہوئے تاریخ دینے اور معاملے کو لسٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور اب ذرائع سے خبر مل رہی ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں 15 اپریل کو سماعت ہوسکتی ہے۔ عدالت کی طرف سے چیف جسٹس کی بنچ 15 اپریل کو اس معاملے کی سماعت کرسکتی ہے ۔ حالانکہ حتمی اعلان باقی ہے البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وقف قانون کو چیلنج کرنے والی تمام عرضیوں پر ایک ساتھ 15 اپریل کو سماعت ہوسکتی ہے۔