حکومت کا جاری کردہ فیملی رجسٹر سرٹیفکٹ SIR مہم میں مشروط طور پر قابل قبول

چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ سی سدرشن ریڈی نے حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے فیملی رجسٹر سرٹیفکٹ کی SIR مہم میں قبولیت کے مسئلہ پر اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فیملی رجسٹر سرٹیفکٹ کو ایس آئی آر مہم کے ایک دستاویز کے طور پر قبول کیا جائے گا لیکن الیکشن کمیشن کے حکام اس کی دیگر معاون دستاویزات کے ساتھ جانچ کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے عوام کیلئے فیملی رجسٹر سرٹیفکٹ کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ SIR مہم میں اسے بطور دستاویز پیش کیا جاسکے۔ سدرشن ریڈی نے کہا کہ فیملی رجسٹر سرٹیفکٹ ان 12 دستاویزات میں سے ایک ہے جسے ایس آئی آر جانچ کے دوران جاری کی جانے والی نوٹس پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فیملی رجسٹر سرٹیفکٹ کا جائزہ لے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ فیملی رجسٹرڈ کارڈ کی اجرائی فوڈ سیکوریٹی کارڈ یعنی راشن کارڈ کی بنیاد پر ہے ، لہذا اس بارے میں تشویش کی کیا وجوہات ہے، سدرشن ریڈی نے واضح کیا کہ عہدیدار فیملی رجسٹرڈ سرٹیفکٹ کو حتمی ثبوت کے طور پر قبول نہیں کر یں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ میں دیگر دستاویزات کا جائزہ لیا جائے گا۔ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر تفصیلی جانچ کے بعد فیصلہ کریں گے اور وہ مزید دستاویزات کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ حکومت نے 25 جولائی کو احکامات جاری کرتے ہوئے می سیوا مراکز سے فیملی رجسٹر کارڈ کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے۔ فیملی رجسٹر کارڈ میں راشن کارڈ کا نمبر اور اس میں موجود افراد کے نام اور ان کے آدھار نمبر رہیں گے۔ ہیڈ آف دی فیملی اور دیگر افراد سے رشتہ ، عمر پیدائشی تفصیلات ، جنس اور موجودہ ایڈریس شامل رہے گا۔ چیف الیکٹورل آفیسر کی وضاحت سے پتہ چلتا ہے کہ تلنگانہ فیملی رجسٹر سرٹیفکٹ فہرست رائے دہندگان میں نام کی شمولیت کے لئے حتمی دستاویز کے طورپر قبول نہیں کیا جائے گا تاہم وہ دیگر دستاویزات کے ساتھ پیش کرنے کی صورت میں قابل قبول رہے گا۔
