وقف ترمیمی قانون ‘ مسلمان حکومت کے ساتھ ہونے کا تاثر دینے فرضی پروپگنڈہ شروع

19last-407x271

مرکزی حکومت کی جانب سے وقف ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد ملک بھر میں مسلمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ملک کے کئی شہروں میں احتجاج شروع ہوچکا ہے۔ مسلمان سڑکوں پر اتر آئے ہیں ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ ہو یا دیگر تنظیمیں اور افراد ہوں سبھی اپنے اپنے طور پر اس متنازعہ قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ ملک کی عدالت عظمی سپریم کورٹ کی جانب سے بھی اس مسئلہ پر حکومت سے جہاں چبھتے ہوئے سوال پوچھے گئے ہیں وہیں عملا عارضی حکم التواء بھی جاری کیا گیا ہے ۔ مودی حکومت اس مسئلہ پر اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ اس کیلئے مودی حکومت نے عمومی طور پر یہ تاثر دینا شروع کردیا ہے کہ مسلمان در اصل حکومت کے فیصلے کے ساتھ ہیں اور مٹھی بھر عناصر کی جانب سے ہی اس قانون کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ مودی حکومت نے اپنے آلہ کار عناصر اور مفاد پرستوں کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے اور ان کے ذریعہ سوشیل میڈیا اور راست عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ قانون در اصل مسلمانوں کے حق میں ہے اور مسلمان مودی حکومت کے فیصلے سے مطمئن ہیں۔ مسلم نماء چہروں کو آگے کرتے ہوئے سوشیل میڈیا پر ان کی تشہیر کی جا رہی ہے ۔ یہ مفادات حاصلہ اور مودی کے آلہ کار بھی اس مہم میں پیش پیش ہیں اور سوشیل میڈیا پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ عناصر مسلمانوں کی صفوں میں موجود رہتے ہوئے اس طرح کا گمراہ کن پروپگنڈہ کر رہے ہیں۔ یہی وہ عناصر بھی ہیں جنہوں نے تین طلاق کے مسئلہ پر بھی حکومت کے فیصلے کی تائید کی تھی اور اس وقت بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ طلاق ثلاثہ پر پابندی در اصل مسلم خواتین کے حق میں بہتر فیصلہ ہے ۔ مودی حکومت لگاتار مسلمانوں کے مذہبی امور میں اور شریعت میں مداخلت کے فیصلے کرتی چلی جا رہی ہے اور حکومت کے آلہ کار بنے ہوئے عناصر شرعی امور میں مداخلت کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کی تائید میں سوشیل میڈیا پر گمراہ کن پروپگنڈہ کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ نجی محافل ہوں ‘ ملاقاتیں ہوں ‘ تقاریب ہوں یا کوئی اور موقع ہو مفادات حاصلہ اپنے پروپگنڈہ کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ بھولے بھالے عوام اور مسلمانوں کی ذہن سازی ایک طرف کی جا رہی ہے تو دوسری طرف سوشیل میڈیا پر اپنے کھوکھلے دلائل پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے کہ عام مسلمان مودی حکومت کے فیصلے کے ساتھ ہیں۔ در اصل یہ بی جے پی کی ہمیشہ سے حکمت عملی رہی ہے کہ وہ حقائق کو چھپانے کیلئے فرضی پروپگنڈہ اور تشہیر کا سہارا لیتی ہے ۔ آئی ٹی سیل کے ذریعہ اس طرح کی تشہیر کی جاتی ہے ۔ حقائق کو آشکار ہونے سے روکنے یہ حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے ۔ ان ہی عناصر کی مدد کے ذریعہ ماضی میں بھی مسلم مخالف فیصلوںاور اقدامات کو آگے بڑھانے میں حکومت کامیاب ہوئی تھی اور اب بھی اسی طرح سے کام کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں میں وقف ترمیمی قانون کے تعلق سے برہمی ہے ۔لوگ سراپا احتجاج بنے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیاجا رہا ہے کہ وہ قانون کو واپس لے ۔ حکومت اس اثر کو قبول کرنے کی بجائے جھٹلانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ آئی ٹی سیل سے ان عناصر کو کچھ ہدایات ملتی ہیں اور ان ہی ہدایات پر آَلہ کار عناصر سوشیل میڈیا پر لگاتار اس فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں۔ حکومت سے اظہار تشکر کیا جا رہا ہے ۔ جہاں ان چہروں کو استعمال کیا جا رہا ہے وہیں کچھ دوسرے گوشوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔ بوہرہ برادری کے ایک وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات کی بھی کافی تشہیر کی جا رہی ہے ۔ اس ملاقات میں بوہرہ برادری نے وقف ترمیمی قانون کے حق میں رائے دی ہے اور حکومت کے فیصلے پر اظہار تشکر بھی کیا ہے ۔اس کے علاوہ بی جے پی سے وابستہ کچھ مسلم چہروں کو پیش کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے پر مٹھائیاں بھی تقسیم کروائی گئیں۔ یہ سارا کچھ ایک منظم حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہے اور یہی تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عام مسلمان حکومت کے فیصلے کے ساتھ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں حکومت کے فیصلے پر شدید برہمی اور ناراضگی ہے ۔ مسلمان شریعت میں مداخلت کو قبول یا برداشت کرنے تیار نہیں ہے اور طویل قانونی لڑائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ مسلمان پرامن طور پر قانون کے دائرہ میں احتجاج کر رہے ہیں ۔ حکومت کے آلہ کار چہروں کی حقیقت سے مسلمان بہتر واقف ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ لوگ عوام پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت ہرگز نہیں رکھتے ۔ یہ صرف اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے حکومت کے اشاروں پر ناچ کر عوام کو گمراہ کرنے اور حکومت کے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں تاہم ان کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔ عوام ان کے حقیقی اور اصلی چہروں کو پہچانتے ہیں اور ان کی سازشوں کا ہرگز بھی شکار نہیں ہونگے ۔