حیدرآباد میں ایبولا کا خطرہ گاندھی ہاسپٹل میں دو مشتبہ مریض شریک

5last_1

شہر حیدرآباد کے گاندھی ہاسپٹل میں ایبولا وائرس کے دو مشتبہ مریضوں کے داخل ہونے کے بعد طبی حلقوں میں سنسنی پھیل گئی ہے ۔ سوڈان سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد یکوچ آحمد کو (Ebola Virus) کے واضح علامات ظاہر ہونے پر آج ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ۔ کل شمس آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کی گئی اسکریننگ کے دوران طبی حکام نے پایا کہ 36 سالہ سوڈانی مسافر آحمد میں ایبولا وائرس سے ملتی جلتی علامات موجود ہیںجس کے بعد اُنھیں فوری نگرانی میں لے لیا گیا ۔ اطلاع کے مطابق محمد یکوچ آحمد نامی یہ مریض مبینہ طورپر شہر کے ایک تعلیمی ادارے کا طالب علم ہے اور وہ یہاں اپنے گھٹنے کے علاج کی غرض سے آیا تھا ۔ گاندھی ہاسپٹل میں ایبولا وائرس کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر سنیل کمار نے بتایا کہ آحمد شدید بخار میں مبتلا ہے اور اسے فوری طورپر ایبولا کے مخصوص آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور شخص کو بھی جو اس مشتبہ مریض کے انتہائی قریبی رابطے میں تھا گاندھی ہاسپٹل کے خصوصی آئسولیشن وارڈ میں رکھ کر اس کا علاج اور معائنہ کیا جارہا ہے ۔ ڈاکٹرس نے تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں افراد سوڈان سے حیدرآباد پہونچے ہیں ۔ وسطی آفریقی ممالک میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے پیش نظر شمس آباد ایئرپورٹ پر وہاں سے آنے والے تمام مسافروں کی اسکریننگ کی جاری ہے ۔ ڈاکٹر سنیل کمار نے مزید بتایا کہ مشتبہ مریض کے خون اور دیگر نمونے حاصل کرکے جانچ کیلئے پہلے حیدرآباد کے (CCMB) لیاب روانہ کئے گئے ہیں جہاں سے اُنھیں حتمی تصدیق کے لئے پونے کی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (NIV) بھیجا گیا ہے۔ ان ٹسٹ کی رپورٹ اندرون ایک ہفتہ وصول ہونے کی اُمید ہے ۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے گاندھی ہاسپٹل میں فی الحال 20 بستروں پر مشتمل ایک جدید اور محفوظ آئسولیشن وارڈ مکمل طورپر فعال کردیا گیا ہے۔