بھو بھارتی قانون ملک کیلئے مثالی، کسانوں کی اراضیات کا تحفظ

3last_3

ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی اور ٹی ناگیشور راؤ کے ہمراہ کھمم کے مدیرا اسمبلی حلقہ میں بھو بھارتی سروے پائلیٹ پراجکٹ کا افتتاح انجام دیا۔ اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے بھو بھارتی کو تلنگانہ حکومت کا تاریخی اقدام قرار دیا اور کہاکہ اراضی تنازعات کی یکسوئی کے لئے تلنگانہ حکومت نے ایک جامع قانون تیار کیا ہے۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں اِس طرح کے قانون کی مثال نہیں ملتی۔ کسانوں کی اراضیات کا تحفظ بھوبھارتی قانون کا اہم مقصد ہے۔ اِس قانون کے تحت کسانوں کی اراضیات کا سروے کرتے ہوئے حدود کی نشاندہی کی جائے گی اور مالکانہ حقوق طے کئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہاکہ بی آر ایس دور حکومت کے دھرانی پورٹل کے ذریعہ کسانوں کو اراضی کے حقوق سے محروم کردیا گیا تھا۔ بی آر ایس قائدین نے پورٹل میں تبدیلیاں کرتے ہوئے کئی بے قاعدگیوں کو انجام دیا۔ کسانوں کو جو پاس بُک جاری کی گئی اُن میں موجود اراضی کی تفصیلات میں تحریف کردی گئی۔ کاکنگریس نے انتخابی وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے دھرانی کا خلیج بنگال میں پھینک دیا اور بھوبھارتی قانون تیار کیا گیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس حکومت نے غریبوں میں 26 لاکھ ایکر اراضی تقسیم کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ارکان اسمبلی کی قیادت میں اسائنمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو بھوبھارتی قانون نافذ کریں گی۔ اُنھوں نے کہاکہ نئے قانون کے بارے میں گرام سبھاؤں کے ذریعہ عوام میں شعور بیدار کیا جارہا ہے۔ اراضیات کی خرید و فروخت میں رکاوٹوں کو دور کرنے میں یہ قانون مددگار ثابت ہوگا۔ بھٹی وکرامارکا نے دعویٰ کیاکہ بھوبھارتی دراصل عوام کی کامیابی ہے۔ نئے قانون کے ذریعہ مکمل شفافیت کے ساتھ اراضیات کی تفصیلات درج کی گئی ہیں اور کوئی بھی موجودہ ریکارڈ میں تحریف نہیں کرپائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ 3500 سے زائد عہدیداروں کا تعین کیا گیا جو اراضی تنازعات کی یکسوئی میں کسانوں کی مدد کریں گے.