جسٹس پی سی گھوش کمیشن رپورٹ کو کالعدم کرنے کے سی آر اور ہریش راؤ کی ہائی کورٹ میں اپیل

TOP_17-14

تلنگانہ ہائی کورٹ نے جسٹس پی سی گھوش کمیشن رپورٹ کے خلاف سابق چیف منسٹر کے سی آر اور سابق وزیر ہریش راؤ کی درخواستوں کو سماعت کیلئے قبول کرلیا۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ کی زیر قیادت بنچ نے آج مقدمہ کی ابتدائی سماعت کی اور کالیشورم کے علاوہ دیگر بیاریجس کی تعمیر میں نقائص سے متعلق کمیشن کی رپورٹ پر حکومت سے مختلف سوالات کئے۔ چیف جسٹس نے حکومت کو سوالات کا جواب دینے کیلئے ایک دن کی مہلت دیتے ہوئے سماعت کو جمعہ تک ملتوی کردیا۔ کے سی آر اور ہریش راؤ نے اپنی درخواست میں کمیشن کی رپورٹ کو نقائص سے پُر قرار دیتے ہوئے کالعدم کرنے کی اپیل کی۔ کے سی آر کی جانب سے سپریم کورٹ کے نامور وکیل اے سندرم نے دلائل پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس پی سی گھوش نے تحقیقات کے سلسلہ میں قواعد کی پابندی نہیں کی ہے ۔ کمیشن کی جانب سے نوٹسیں مناسب انداز میں جاری نہیں کی گئیں۔ عدالت سے شکایت کی گئی کہ کمیشن کی رپورٹ کے سی آر اور ہریش راؤ کو نہیں دی گئی۔ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر پاور پوائنٹ پریزینٹیشن دیا جبکہ اپوزیشن قائدین کو رپورٹ حوالے نہیں کی گئی۔ کے سی آر کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ سیاسی طور پر کے سی آر اور بی آر ایس کو نقصان پہنچانے کی مدد سے رپورٹ تیار کی گئی ہے ۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چیف منسٹر نے میڈیا کانفرنس میں رپورٹ کی تفصیلات جاری کی ہے۔ رپورٹ کو ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے ۔ کے سی آر کے وکیل نے کہا کہ رپورٹ کے لئے حکومت کو مکتوب روانہ کیا گیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر عہدیداروں کی تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے کہا کہ حکومت رپورٹ پر اسمبلی میں مباحث کی تیاری کر رہی ہے اور دونوں درخواست گزار اسمبلی کے رکن ہیں اور مباحث میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جب دونوں اسمبلی کے ارکان ہیں تو پھر رپورٹ برسر عام کیوں نہیں کی گئیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ میڈیا کانفرنس میں ہر صحافی کو 60 صفحات پر مشتمل رپورٹ حوالے کی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں رپورٹ کی جو کاپی داخل کی گئی ہے، وہ پڑھنے کے لئے واضح نہیں ہے۔ کے سی آر کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ مسئلہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے سماعت کو جلد مکمل کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے حکومت سے سوال کیا کہ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی یا اسمبلی میں مباحث کے بعد حکومت کارروائی کرے گی۔ایڈوکیٹ جنرل نے حکومت کا موقف بیان کرنے کیلئے وقت مانگا جس پر سماعت کو جمعہ تک ملتوی کیا گیا۔ پی سی گھوش کمیشن پر عدالت میں گرما گرم مباحث ہوئے۔ کے سی آر کے وکیل نے رپورٹ کو نقائص سے پُر ثابت کرنے کیلئے دلائل پیش کئے جبکہ سرکاری وکلاء نے کمیشن کی رپورٹ کا دفاع کیا۔ کے سی آر کے وکیل نے میڈی گڈا بیاریج کو نقصان کے لئے غیر موسمی بارش کو اہم وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اچانک موسلادھار بارش کے نتیجہ میں بیاریج کے پلر کو نقصان پہنچا۔ اس نقصان کے لئے ڈیزائننگ اور انجنیئرنگ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کو رپورٹ کی کاپی دیئے بغیر میڈیا کو جاری کردی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انکوائری کمیشن اگر کسی شخص سے وضاحت طلب کرنا ہے تو اسے سیکشن 8B کے تحت نوٹس دی جانی چاہئے ۔ کمیشن انکوائری ایکٹ کے سیکشن 8B اور 8C کے تحت نوٹس نہیں دی گئی۔ کمیشن نے 31 جولائی کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی جو 600 صفحات پر مشتمل ہے ۔ کمیشن کے وکیل نرنجن ریڈی نے کہا کہ کمیشن نے سیکشن 8B کے تحت ہی نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کیا تھا۔ حکومت اسمبلی میں مباحث کے بعد رپورٹ کو برسر عام کرے گی۔