پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 25 سے 28 روپئے اضافہ متوقع

TOP_12-17

ملک میں جاری اسمبلی انتخابات کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافہ کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔ بروکریچ فورمKotak Institutional Equities کی تازہ رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت جلد ہی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کرسکتی ہے جس سے عام آدمی کی جیب پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 104 ڈالر فی بیارل تک پہنچ چکی ہے جس کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 25 سے 28 روپئے تک اضافہ کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔ اگر یہ اضافہ مرحلہ وار نافذ کیا گیا تو پٹرول کی قیمت 120 روپئے فی لیٹر سے تجاوز کرسکتی ہے جو ملک کی تاریخ میں ایک سطح ہوگی۔ ماہرین کے مطابق اس وقت سرکاری تیل کمپنیوں کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ اندازہ کے مطابق آئیل کمپنیوں کو ماہانہ تقریباً 27 ہزار کروڑ روپئے اور یومیہ قریب 900 کروڑ روپئے کا خسارہ ہورہا ہے ، ایسے میں اگر حکومت اکسائز ڈیوٹی میں کمی یا ونڈ فال ٹیکس جیسے اقدامات بھی کرے تو یہ نقصان مکمل طور پر پورا کرنا مشکل ہوگا۔ رپورٹ میں قیمتوں میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ مغربی ایشیا میں کشیدگی ، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال قرار دیا گیا ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہورہی ہے۔ اگرچیکہ ہندوستان میں اپنی درآمد میں 13 سے 15 فیصد کمی کی ہے۔ اس کے باوجود بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے یومیہ ہزاروں کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ فوری نہیں بلکہ انتخابات کے بعد مرحلہ وار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کے اثرات دور رس نتائج ہوں گے۔ حمل و نقل کے اخراجات میں اضافہ ہوگا ، اشیائے خرد و نوش کی قیمتیں مزید اوپر جائیں گی اور ڈیلیوری و دیگر سرویسز بھی مہنگی ہوجائیں گی۔ اقتصادی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مئی کے مہینہ میں مہنگائی کے باعث عوامی بجٹ مزید دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہے کہ حکومت اس ممکنہ پٹرول بم کے اثر کو کم کرنے کیلئے کیا اقدامات کرتی ہے۔