حیدرآباد میں پٹرول پمپ کی بڑی دھاندلی

حیدرآباد کے پٹرول پمپس پر صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ پٹرول میں پانی کی ملاوٹ اور ریڈنگ میں ہیرا پھیری کے بعد اب حیات نگر کے ایک پٹرول پمپ پر ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق حیات نگر کے ایک پٹرول پمپ پر اس وقت ہنگامہ ہوگیا جبکہ ایک گاڑی کے مالک نے اپنی گاڑی کی ٹانکی فل کرنے کی ہدایت دی۔ گاڑی کی جملہ گنجائش (Capacity) صرف 27 لیٹر تھی لیکن پمپ کی ریڈنگ میں 29.5 لیٹر پٹرول دکھایا گیا۔ گاڑی کے مالک نے کہا کہ گاڑی میں پہلے سے 2 سے 3 لیٹر پٹرول موجود تھا ، اس حساب سے ٹانکی میں بمشکل 14 سے 25 لیٹر پٹرول آنا چاہئے تھا لیکن پٹرول پمپ کے عملہ نے 29.5 لیٹر کا بل تھمادیا یعنی ٹانکی کی گنجائش سے بھی کئی لیٹر زیادہ پٹرول بھرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ جب گاڑی کے مالک نے اس دھوکہ دہی پر پٹرول پمپ کے عملہ سے سوال کیا اور مطالبہ کیا کہ پٹرول کو ناپنے سلینڈر (Standard Measuring Cylinder) سے چیک کیا جائے تو عملہ نے ٹال مٹول شروع کردی اور مضحکہ خیز جواب دیا کہ پمپ میں کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ آپ کی گاڑی کی ٹانکی میں مسئلہ ہے۔ گاڑی کے مالک نے تشویش ظاہر کی کہ جب عام آدمی آواز اٹھاتا ہے تو اسے پولیس کیس اور دیگر دھمکیوں سے ڈرایا جاتا ہے۔ انہوں نے محکمہ سیول سپلائیز اور متعلقہ عہدیداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ حیات نگر کے بشمول شہر کے تمام پٹرول پمپس کا اچانک معائنہ کیا جائے اور ہیرا پھیری کرنے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کیا جائے اور صارفین کو لوٹنے والے عملہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
