کمرشیل گیاس سلینڈر کی قیمت میں تقریباً ایک ہزار روپئے اضافہ پر اتم کمار ریڈی کی برہمی

ریاستی وزیر آبپاشی و سیول سپلائیز اتم کمار ریڈی نے مرکزی حکومت کی جانب سے کمرشیل گیاس کی قیمتوں میں تقریباً ایک ہزار روپئے تک اضافہ کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس فیصلہ سے فوری دستبردار ہوجانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ عام آدمی کے جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ اس فیصلہ سے عوام پر معاشی بوجھ عائد ہوگا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ 19 کیلو گرام کے کمرشیل گیاس سلینڈر کی قیمت میں 993 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب فی سلینڈر کی قیمت 3000 روپئے سے تجاوز کرگئی ہے۔ کمرشیل گیاس سلینڈر کی قیمت میں اچانک 30 سے 35 فیصد اضافہ سے چھوٹے ہوٹل ، کیفے ، ریستوران اور خاص طور پر سڑک کنارہ ٹھیلہ بنڈی لگانے والے چھوٹے تاجروں کا کاروبار تباہ و برباد ہوجائے گا۔ ریاستی وزیر نے مرکزی حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ سیاسی مفاد کے تحت کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پانچ ریاستوں میں انتخابات ختم ہونے کے محض 24 گھنٹے بعد قیمتوں میں اضافہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکز نے عوام کو دھوکہ دینے کیلئے انتخابات کا انتظار کیا ہے ۔ وزیر نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کا یہ رویہ غریب عوام دشمنی پر مبنی ہے۔ انہوں نے پر زور مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اس ظالمانہ اضافہ کو فوری طور پر واپس لے لیں تاکہ چھوٹے تاجروں اور عام صارفین کو راحت مل سکے۔
