شہر میں گرمی کی شدت میں اضافہ

temperature-heatwave-summer-4-1536x864

دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میںگرمی کی شدت میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے سلسلہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کئے جانے کے ساتھ کھلی اراضیات کی تعداد کم ہونے کے علاوہ شجرکاری کے لئے موجود اراضیات کی تخفیف اور تالابوں پر قبضہ جات ہیں۔ شہری علاقوں بالخصوص شہر حیدرآباد میں درجہ حرارت کے 40ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرجانے کے بعد مسلسل ماہرین کی جانب سے وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے موسمی صورتحال پر قابو پانے کے اقدامات سے متعلق تجاویز پیش کی جار ہی ہیں لیکن موسمی تبدیلیوں کے ان اثرات کے لئے اب بنیادی طور پر شہرمیں درختوں کی جگہ کنکریٹ کی ہمہ منزلہ عمارتوں کو وجہ قرار دیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جس رفتار سے شہر اور اطراف کے علاقوں میں ہمہ منزلہ عمارتوں کا اضافہ ہورہا ہے اور مکینوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اسی رفتار سے شہر اور نواحی علاقوں میں ائیر کنڈیشن کے استعمال میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے جو کہ درجہ حرارت میں کمی کے باوجود ائیر کنڈیشن سے بیرونی علاقہ میں خارج ہونے والی گرم ہوا کے سبب گرمی سے زیادہ گرمی کا احساس پیدا کرنے کے لئے کافی ہے اسی طرح گاڑیوں کے ائیر کنڈیشن کے استعمال میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے نتیجہ میں کہا جار ہاہے کہ دونوں شہروں کی سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں میں 99 فیصد گاڑیوں میں ائیر کنڈیشن کا استعمال کیا جا رہاہے اور یہ بھی گرمی کی شدت میں اضافہ کی بنیادی وجوہات میں ایک وجہ ہے ۔ ماہرین کے مطابق اگر تالاب ‘ کھلے میدان‘ پارک کا تحفظ کرنے کے علاوہ شجرکاری میں اضافہ کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں آئندہ موسم گرما کے دوران گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے اسی لئے شہر کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لئے اقدامات کے ساتھ زیر زمین سطح آب اور شجرکاری کے لئے تیار کئے گئے اصولوں پر سختی سے عمل آوری کو یقینی بنایا جائے تاکہ دونوں شہروں میں گرمی کی شدت میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ پر قابو پانے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ ماہرین مسلسل وجوہات کی نشاندہی کر رہے ہیںتاکہ صورتحال مزید ابتر نہ ہو۔