محکمہ پولیس میں 5 ہزار ملازمتوں کیلئے عنقریب نوٹیفیکیشن جاری ہوگا : ریونت ریڈی

چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت ریاست کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور تلنگانہ کو عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کررہی ہے ۔ بنگلورو میں منعقدہ دی ’ ہندو ہڈل ‘ کانفرنس کے چھٹے ایڈیشن کے دوسرے دن بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے انہوں نے عوام کے لیے عوام کے ذریعے ، تلنگانہ میں اچھی حکمرانی کے موضوع پر دی ہندو کے ڈائرکٹر این رام سے گفتگو میں روزگار ، طرز حکمرانی اور ترقیاتی ماڈل پر کئی سنسنی خیز اور دلچسپ حقائق شیئر کئے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ملازمتوں کے معاملے میں سابق بی آر ایس حکومت اور کے سی آر پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک ملازمتوں کی تقرری کے لیے چلی تھی ۔ لیکن کے سی آر حکومت نے 2 لاکھ مخلوعہ جائیدادیں ہونے کے باوجود اس مسئلے کو حل نہیں کیا ماضی میں حالت یہ تھی کہ ایک آر ایم پی ڈاکٹر کو پبلک سرویس کمیشن کا رکن بنایا گیا تھا جو انجینئرس اور ڈاکٹر بننے والے گروپ I کے امیدواروں کا انٹرویو لے رہا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد ان کی حکومت نے سب سے پہلے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی صفائی کی اور محض 15 ماہ کے مختصر عرصے میں 67,760 نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی ۔ ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ بہت جلد محکمہ پولیس میں 5000 جائیدادوں پر تقررات کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ بے روزگاروں کو مارکٹ کی ضرورت کے مطابق تیار کرنے کے لیے ایک جدید اسکل یونیورسٹی قائم کی گئی جہاں کارپوریٹ کمپنیوں کے (CEOs) ہی بورڈ آف ڈائرکٹرس ہیں وہی نصاب طئے کررہے ہیں اور کورس کی تکمیل پر روزگار بھی فراہم کررہے ہیں ۔ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ان کا مقابلہ مہاراشٹرا اور گجرات جیسی بڑی ریاستوں سے نہیں ہے ۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں سرمایہ کاری قدرتی طور پر نہیں آرہی ہے بلکہ وہاں جانے کے لیے کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ میرا مقابلہ چین ۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک سے ہے ۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیدا کی جائے گی کہ ہر چیز تلنگانہ میں پیدا ہوگی اور مینوفیکچرنگ کے میدان میں ریاست چین کا متبادل بنے گی ۔ ماحولیات کے تحفظ اور EV صنعت کو فروغ دینے کے لیے زیرو ٹیکس کی پالیسی متعارف کرائی گئی جس سے حکومت کو 2000 کروڑ روپئے کی آمدنی کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ چیف منسٹر نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ایڈولف ہٹلر کی تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے ’ حیڈرا ‘ کا قیام عمل میں لایا کیوں کہ یہ ہٹلر کا پسندیدہ نقطہ تھا ۔ اس سسٹم کے لیے 3000 ریٹائرڈ فوجیوں کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ تالابوں پر ناجائز قبضوں کو برخاست کرنے میں اہم پیشرفت ہورہی ہے ۔ منشیات کی وبا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ملک کا سب سے طاقتور ’ایگل فورس ‘ کی تشکیل کی گئی ہے ۔ ریاست میں 25,035 کسان خاندانوں کے 20,616 کروڑ روپئے کے قرض معاف کئے گئے ۔ ریتو بیمہ کے تحت کسانوں کو 12 ہزار روپئے فی ایکر دئیے جارہے ہیں ۔ خواتین گروپس کی 67 لاکھ خواتین کو بلا سودی قرضے فراہم کئے گئے ہیں ۔
